تذکرة الشہادتین — Page 56
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۵۶ تذكرة الشهادتين سلطنت انگریزی جو اس امیر کی نگاہ میں اور نیز اُس کے مولویوں کے خیال میں ایک کافر کی سلطنت ہے کس قدر مختلف فرقے اس سلطنت کے زیر سایہ رہتے ہیں۔ کیا اب تک اس سلطنت نے کسی مسلمان یا ہندو کو اس قصور کی بنا پر پھانسی دے دیا کہ اس کی رائے پادریوں کی رائے کے مخالف ہے۔ ہائے افسوس آسمان کے نیچے یہ بڑا ظلم ہوا کہ ایک بے گناہ معصوم با وجود صادق ہونے کے باوجود اہل حق ہونے کے اور باوجود اس کے کہ وہ ہزار ہا معزز لوگوں کی شہادت سے تقویٰ اور طہارت کے پاک پیرا یہ سے مزین تھا۔ اس طرح بے رحمی سے محض اختلاف مذہب کی وجہ سے مارا گیا۔ اس امیر سے وہ گورنر ہزار ہا درجہ اچھا تھا جس نے ایک مخبری پر حضرت مسیح کو گرفتار کر لیا تھا یعنی پیلاطوس جس کا آج تک انجیلوں میں ذکر موجود ہے کیونکہ اس نے یہودیوں کے مولویوں کو جبکہ انہوں نے حضرت مسیح پر کفر کا فتویٰ لکھ کر یہ درخواست کی کہ اس کو صلیب دی جائے یہ جواب دیا کہ اس شخص کا میں کوئی گناہ نہیں دیکھتا۔ افسوس اس امیر کو کم سے کم اپنے مولویوں سے یہ تو پوچھنا چاہیے تھا کہ یہ سنگساری کا فتویٰ کسی قسم کے کفر پر دیا گیا ۔ اور اس اختلاف کو کیوں کفر میں داخل کیا گیا اور کیوں انہیں یہ نہ کہا گیا کہ تمہارے فرقوں میں خود اختلاف بہت ہیں ۔ کیا ایک فرقہ کو چھوڑ کر دوسروں کو سنگسار کرنا چاہیے۔ جس امیر کا یہ طریق اور یہ عدل ہے نہ معلوم وہ خدا کو کیا جواب دے گا۔ بعد اس کے کہ فتویٰ کفر لگا کر شہید مرحوم قید خانہ میں بھیجا گیا ۔ صبح روز شنبہ کو شہید موصوف کو سلام خانه یعنی خاص مکان دربار امیر صاحب میں بلایا گیا۔ اُس وقت بھی بڑا مجمع تھا۔ امیر صاحب جب ارک یعنی قلعہ سے نکلے تو راستہ میں شہید مرحوم ایک جگہ بیٹھے تھے اُن کے پاس ہو کر گزرے اور پوچھا کہ اخوند زادہ صاحب کیا فیصلہ ہوا ۔ شہید مرحوم کچھ نہ بولے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان لوگوں نے ظلم پر کمر باندھی ہے مگر سپاہیوں میں سے کسی نے کہا کہ ملامت ہو گیا یعنی کفر کا فتویٰ لگ گیا۔ پھر امیر صاحب جب اپنے اجلاس پر آئے تو اجلاس میں بیٹھتے ہی پہلے اخوند زادہ صاحب مرحوم کو بلایا اور کہا کہ آپ پر کفر کا فتویٰ لگ گیا ہے۔ اب کہو کہ کیا تو بہ کرو گے یا سزا پاؤ گے تو انہوں نے (۵۵) صاف لفظوں میں انکار کیا اور کہا کہ میں حق سے تو یہ نہیں کر سکتا۔ کیا میں جان کے خوف سے