تذکرة الشہادتین — Page 57
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۵۷ تذكرة الشهادتين باطل کو مان لوں۔ یہ مجھے سے نہیں ہو گا ۔ تب امیر نے دوبارہ تو بہ کے لئے کہا اور توبہ کی حالت میں بہت امید دی اور وعدہ معافی دیا مگر شہید موصوف نے بڑے زور سے انکار کیا اور کہا کہ مجھ سے یہ امید مت رکھو کہ میں سچائی سے تو بہ کروں ۔ ان باتوں کو بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ سنی سنائی باتیں نہیں بلکہ ہم خود اس مجمع میں موجود تھے اور مجمع کثیر تھا۔ شہید مرحوم ہر ایک فہمائش کا زور سے انکار کرتا تھا اور وہ اپنے لئے فیصلہ کر چکا تھا کہ ضرور ہے کہ میں اس راہ میں جان دوں تب اُس نے یہ بھی کہا کہ میں بعد قتل چھ روز تک پھر زندہ ہو جاؤں گا۔ یہ راقم کہتا ہے کہ یہ قول وحی الہی کی بنا پر ہو گا جو اس وقت ہوئی ہوگی کیونکہ اس وقت شہید مرحوم منقطعین میں داخل ہو چکا تھا اور فرشتے اس سے مصافحہ کرتے تھے۔ تب فرشتوں سے یہ خبر پا کر ایسا اُس نے کہا اور اس قول کے یہ معنے تھے کہ وہ زندگی جو اولیاء اور ابدال کو دی جاتی ہے چھ روز تک مجھے مل جائے گی اور قبل اس کے جو خدا کا دن آوے یعنی ساتواں دن میں زندہ ہو جاؤں گا اور یاد رہے کہ اولیاء اللہ اور وہ خاص لوگ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوتے ہیں وہ چند دنوں کے بعد پھر زندہ کئے جاتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيْلِ اللهِ اَمْوَاتًا بل احیا ہے یعنی تم ان کو مردے مت خیال کرو جو اللہ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں وہ تو زندے ہیں۔ پس شہید مرحوم کا اسی مقام کی طرف اشارہ تھا اور میں نے ایک کشفی نظر میں دیکھا کہ ایک درخت سرو کی ایک بڑی لمبی شاخ جو نہایت خوبصورت اور سرسبز تھی ہمارے باغ میں سے کاٹی گئی ہے اور وہ ایک شخص کے ہاتھ میں ہے تو کسی نے کہا کہ اس شاخ کو اس زمین میں جو میرے مکان کے قریب ہے اُس بیری کے پاس لگا دو جو اس سے پہلے کاٹی گئی تھی اور پھر دوبارہ اُگے گی اور ساتھ ہی مجھے یہ وحی الہی ہوئی کہ کابل سے کاٹا گیا اور سیدھا ہماری طرف آیا۔ اس کی میں نے یہ تعبیر کی کہ تخم کی طرح شہید مرحوم کا خون زمین پر پڑا ہے اور وہ بہت بارور ہو کر ہماری جماعت کو بڑھاوے گا۔ اس طرف میں نے یہ خواب دیکھی اور اس طرف شہید مرحوم نے کہا کہ چھ روز تک میں زندہ کیا جاؤں گا۔ میری خواب اور شہید مرحوم کے اس قول کا مال ایک ہی ہے۔ شہید مرحوم نے مرکز میری جماعت کو ایک نمونہ دیا ہے اور درحقیقت میری جماعت ال عمران : ۱۷۰