تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 52 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 52

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۵۲ تذكرة الشهادتين پڑتا ہے۔ ایسا نازک اندام اور نعمتوں کا پروردہ انسان وہ اُس روح کے گداز کرنے والی قید میں صبر کر سکے اور جان کو ایمان پر فدا کرے۔ بالخصوص جس حالت میں امیر کا بل کی طرف سے بار بار ان کو پیغام پہنچتا تھا کہ اس قادیانی شخص کے تصدیق دعوی سے انکار کر دو تو تم ابھی عزت سے رہا کئے جاؤ گے مگر اُس قومی الایمان بزرگ نے اس بار بار کے وعدہ کی کچھ بھی پروا نہ کی اور بار بار یہی جواب دیا کہ مجھ سے یہ امید مت رکھو کہ میں ایمان پر دنیا کو مقدم رکھ لوں ۔ اور کیونکر ہو سکتا ہے کہ جس کو میں نے خوب شناخت کر لیا اور ہر ایک طرح سے تسلی کر لی اپنی موت کے خوف سے اُس کا انکار کر دوں ۔ یہ انکار تو مجھے سے نہیں ہوگا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ میں نے حق پالیا۔ اس لئے چند روزہ زندگی کے لئے مجھ سے یہ بے ایمانی نہیں ہوگی کہ میں اُس ثابت شدہ حق کو چھوڑ دوں ۔ میں جان چھوڑنے کے لئے طیار ہوں اور فیصلہ کر چکا ہوں مگر حق میرے ساتھ جائے گا۔ اُس بزرگ کے بار بار کے یہ جواب ایسے تھے کہ سرزمین کا بل بھی اُن کو فراموش نہیں کرے گی اور کابل کے لوگوں نے اپنی تمام عمر میں یہ نمونہ ایمانداری اور استقامت کا بھی نہیں دیکھا ہوگا۔ اس جگہ یہ بھی ذکر کرنے کے لائق ہے کہ کابل کے امیروں کا یہ طریق نہیں ہے کہ اس قدر بار بار وعدہ معافی دے کر ایک عقیدہ کے چھوڑانے کے لئے توجہ دلائیں لیکن مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم کی یہ خاص رعایت اس وجہ سے تھی کہ وہ ریاست کا بل کا گویا ایک بازو تھا اور ہزار ہا انسان اُس کے معتقد تھے اور جیسا کہ ہم اوپر لکھ چکے ہیں وہ امیر کابل کی نظر میں اس قدر منتخب عالم فاضل تھا کہ تمام علماء میں آفتاب کی طرح سمجھا جاتا تھا۔ پس ممکن ہے کہ امیر کو بجائے خود یہ رنج بھی ہو کہ ایسا برگزیدہ انسان علماء کے اتفاق رائے سے ضرور قتل کیا جائے گا اور یہ تو ظاہر ہے کہ آج کل ایک طور سے عنان حکومت کابل کی مولویوں کے ہاتھ میں ہے۔ اور جس بات پر مولوی لوگ اتفاق کر لیں پھر ممکن نہیں کہ امیر اُس کے برخلاف کچھ کر سکے ۔ پس یہ امر قرین قیاس ہے کہ ایک طرف اس امیر کو مولویوں کا خوف تھا اور دوسری طرف شہید مرحوم کو بے گناہ دیکھتا تھا۔ پس یہی وجہ ہے کہ وہ قید کی تمام مدت میں یہی (1) ہدایت کرتا رہا کہ آپ اس شخص قادیانی کو مسیح موعود مت ما نہیں ۔ اور اس عقیدہ سے تو بہ کریں