تذکرة الشہادتین — Page 51
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۵۱ تذكرة الشهادتين گزرے تو ہم اور دوسرے بہت سے بازاری لوگ ساتھ چلے گئے ۔ اور یہ بھی بیان کیا کہ آٹھ سرکاری سوارخوست سے ہی اُن کے ہمراہ کئے گئے تھے کیونکہ اُن کے خوست میں پہنچنے سے پہلے حکم سرکاری اُن کے گرفتار کرنے کے لئے حاکم خوست کے نام آچکا تھا۔ غرض جب امیر صاحب کے روبرو پیش کئے گئے تو مخالفوں نے پہلے سے ہی اُن کے مزاج کو بہت کچھ متغیر کر رکھا تھا۔ اس لئے وہ بہت ظالمانہ جوش سے پیش آئے اور حکم دیا کہ مجھے ان سے بو آتی ہے۔ ان کو فاصلہ پر کھڑا کرو۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد حکم دیا کہ ان کو اس قلعہ میں جس میں خود امیر صاحب رہتے ہیں قید کر دو اور زنجیر غر اغراب لگا دو۔ یہ زنجیر وزنی ایک من چو بیس سیر انگریزی کا ہوتا ہے۔ گردن سے کمر تک گھیر لیتا ہے۔ اور اس میں لکڑی بھی شامل ہے۔ اور نیز حکم دیا کہ پاؤں میں بیڑی وزنی آٹھ مسیر انگریزی کی لگا دو۔ پھر اس کے بعد مولوی صاحب مرحوم چار مہینہ قید میں رہے اور اس عرصہ میں کئی دفعہ ان کو امیر کی طرف سے فہمائش ہوئی کہ اگر تم اس خیال سے تو بہ کرو کہ قادیانی در حقیقت مسیح موعود ہے تو تمہیں رہائی دی جائے گی مگر ہر ایک مرتبہ انہوں نے یہی جواب دیا کہ میں صاحب علم ہوں اور حق اور باطل کی شناخت کرنے کی خدا نے مجھے قوت عطا کی ہے۔ میں نے پوری تحقیق سے معلوم کر لیا ہے کہ یہ شخص در حقیقت مسیح موعود ہے۔ اگر چہ میں جانتا ہوں کہ میرے اس پہلو کے اختیار کرنے میں میری جان کی خیر نہیں ہے۔ اور میرے اہل وعیال کی بربادی ہے مگر میں اس وقت اپنے ایمان کو اپنی جان اور ہر ایک دنیوی راحت پر مقدم سمجھتا ہوں۔ شہید مرحوم نے نہ ایک دفعہ بلکہ قید ہونے کی حالت میں بارہا یہی جواب دیا۔ اور یہ قید انگریزی قید کی طرح نہیں تھی جس میں انسانی کمزوری کا کچھ کچھ لحاظ رکھا جاتا ہے۔ بلکہ ایک سخت قید تھی جس کو انسان موت سے بدتر سمجھتا ہے۔ اس لئے لوگوں نے شہید موصوف کی اس استقامت اور استقلال کو نہایت تعجب سے دیکھا۔ اور در حقیقت تعجب کا مقام تھا کہ ایسا جلیل الشان شخص کہ جو کئی لاکھ روپیہ کی ریاست کا بل میں جاگیر رکھتا تھا اور اپنے فضائل علمی اور تقویٰ کی وجہ سے گویا تمام سرزمین کا بل کا پیشوا تھا۔ اور قریباً پچاس برس کی عمر تک منظم اور آرام میں زندگی بسر کی تھی۔ اور بہت سا اہل وعیال اور عزیز فرزند رکھتا تھا۔ پھر ایک دفعہ وہ ایسی سنگین قید میں ڈالا گیا جو موت سے بدتر تھی اور جس کے تصور سے بھی انسان کے بدن پر لرزہ (۵۰)