تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 50

تذكرة الشهادتين روحانی خزائن جلد ۲۰ جائے کہ اس طرح پر حج کرنے سے معذوری پیش آئی۔ سو انہوں نے مناسب سمجھا کہ بر گیڈیر محمد حسین کو خط لکھا تا وہ مناسب موقعہ پر اصل حقیقت مناسب لفظوں میں امیر کے گوش گزار کر دیں ۔ اور اس خط میں یہ لکھا کہ اگر چہ میں حج کرنے کے لئے روانہ ہوا تھا مگر مسیح موعود کی مجھے زیارت ہو گئی ۔ اور چونکہ مسیح کے ملنے کے لئے اور اس کی اطاعت مقدم رکھنے کے لئے خدا و رسول کا حکم ہے۔ اس مجبوری سے مجھے قادیان میں ٹھہرنا پڑا۔ اور میں نے اپنی طرف سے یہ کام نہ کیا بلکہ قرآن اور حدیث کی رو سے اسی امر کو ضروری سمجھا ۔ جب یہ خط بر گیڈیر محمد حسین کو توال کو پہنچا تو اس نے وہ خط اپنے زانو کے نیچے رکھ لیا اور اُس وقت پیش نہ کیا مگر اس کے نائب کو جو مخالف اور شریر آدمی تھا کسی طرح پتہ لگ گیا کہ یہ مولوی صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کا خط ہے۔ اور وہ قادیان میں ٹھہرے رہے تب اس نے وہ خط کسی تدبیر سے نکال لیا اور امیر صاحب کے آگے پیش کر دیا۔ امیر صاحب نے برگیڈیر محمد حسین کو توال سے دریافت کیا کہ کیا یہ خط آپ کے نام آیا ہے۔ اُس نے امیر کے موجودہ غیظ و غضب سے خوف کھا کر انکار کر دیا۔ پھر ایسا اتفاق ہوا که مولوی صاحب شہید نے کئی دن پہلے خط کے جواب کا انتظار کر کے ایک اور خط بذریعہ ڈاک محمد حسین کو تو ال کو لکھا۔ وہ خط افسر ڈاکخانہ نے کھول لیا اور امیر صاحب کو پہنچا دیا ۔ چونکہ قضا و قدر سے مولوی صاحب کی شہادت مقدر تھی ۔ اور آسمان پر وہ برگزیدہ بز مرہ شہداء داخل ہو چکا تھا۔ اس لئے امیر صاحب نے اُن کے بلانے کے لئے حکمت عملی سے کام لیا اور اُن کی طرف خط لکھا کہ آپ بلا خطرہ چلے آؤ۔ اگر یہ دعوی سچا ہوگا تو میں بھی مرید ہو جاؤں گا ۔ بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ خط امیر صاحب نے ڈاک میں بھیجا تھا یا دستی روانہ کیا تھا۔ بہر حال اس خط کو دیکھ کر مولوی صاحب موصوف کابل کی طرف روانہ ہو گئے اور قضا و قدر نے نازل ہونا شروع کر دیا۔ راویوں نے بیان کیا ہے کہ جب شہید مرحوم کابل کے بازار سے گزرے تو گھوڑے پر سوار تھے۔ اور ان کے پیچھے آٹھ سرکاری سوار تھے اور اُن کی تشریف آوری سے پہلے عام طور پر کابل میں مشہور تھا کہ امیر صاحب نے اخوند زادہ صاحب کو دھوکہ دے کر ۴۹ بلایا ہے۔ اب بعد اس کے دیکھنے والوں کا یہ بیان ہے کہ جب اخوند زادہ صاحب مرحوم بازار سے