تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 24

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۴ تذكرة الشهادتين ایک غلام غلمان محمدی سے یعنی یہ عاجز اس کا مثیل کر کے اس اُمت میں سے پیدا کیا اور اس کی نسبت اپنے فضل اور انعام کا زیادہ اس کو حصہ دیا تا عیسائیوں کو معلوم ہو کہ تمام م فضل خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ غرض عیسی بن مریم کے مثیل آنے کی ایک یہ بھی غرض تھی کہ اس کی خدائی کو پاش پاش کر دیا جائے۔ انسان کا آسمان پر جا کر مع جسم عنصری آباد ہونا ایسا ہی سنت اللہ کے خلاف ہے جیسے دیا کا پر جا آباد ہے کہ فرشتے مجسم ہو کر زمین پر آباد ہو جائیں۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا پھر یہ نادان قوم نہیں سوچتی کہ جس حالت میں صلیب دینے کے وقت ابھی تبلیغ حضرت عیسی علیہ السلام کی نا تمام تھی اور ابھی دس قو میں یہود کی دوسرے ملکوں میں باقی تھیں جو اُن کے نام سے بھی بے خبر تھیں تو پھر حضرت عیسی کو یہ کیا سوجھی کہ اپنا منصبی کام نا تمام چھوڑ کر آسمان پر جابیٹھے۔ پھر تعجب کہ اسلامی کتابوں میں تو حضرت عیسی کو نبی سیاح لکھا ہے مگر وہ تو صرف ساڑھے تین برس اپنے ہی گاؤں میں رہ کر راہی ملک سماوی ہوئے۔ ظاہر ہے کہ جبکہ صرف بیہودہ قصوں پر بھروسہ کر کے حضرت عیسی کو خدا مانا جاتا ہے پھر اگر وہ یہ کرشمہ بھی دکھلاویں کہ آسمان سے معہ فرشتوں کے اُتریں تو اس وقت کیا حال ہوگا۔ یادر ہے کہ جو شخص اتر نے والا تھا وہ عین وقت پر اُتر آیا اور آج تمام نوشتے پورے ہو گئے تمام نبیوں کی کتابیں اسی زمانہ کا حوالہ دیتی ہیں۔ عیسائیوں کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ اسی زمانہ میں مسیح موعود کا آنا ضروری تھا اُن کتابوں میں صاف طور پر لکھا تھا کہ آدم سے چھٹے ہزار کے اخیر پر مسیح موعود آئے گا۔ سو چھٹے ہزار کا اخیر ہوگیا۔ اور لکھا تھا کہ اس سے پہلے ذوالسنین ستارہ نکلے گا۔ سو مدت ہوئی کہ نکل چکا۔ اور لکھا تھا کہ اس کے ایام میں سورج اور چاند کو ایک ہی مہینہ میں جو رمضان کا مہینہ ہوگا گر ہن لگے گا۔ سو مدت ہوئی کہ یہ پیشگوئی بھی پوری ہو چکی اور لکھا تھا کہ اس کے زمانہ میں ایک بڑے جوش سے طاعون پیدا ہوگی اس کی خبر انجیل میں بھی موجود ہے سود یکھتا ہوں کہ طاعون نے اب تک پیچھا الفتح : ۲۴