تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 23

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۳ تذكرة الشهادتين کیوں یہ نہیں سوچتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر بھی بعض صحابہ کو یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ دنیا میں آئیں گے مگر حضرت ابوبکر نے یہ آیت پڑھ کر کہ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اس خیال کو رفع دفع کر دیا۔ اور اس آیت کے یہ معنے سمجھائے کہ کوئی نبی نہیں جو فوت نہیں ہو چکا پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی فوت ہو جائیں تو کوئی افسوس کی جگہ نہیں یہ امر سب کے لئے مشترک ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے دلوں میں یہ خیال ہوتا کہ عیسی آسمان پر چھ سو برس سے زندہ بیٹھا ہے تو وہ ضرور حضرت ابو بکر کے آگے یہ خیال پیش کرتے لیکن اس روز سب نے مان لیا کہ سب نبی مر چکے ہیں اور اگر کسی کے دل میں یہ خیال بھی تھا کہ عیسی زندہ ہے تو اس نے اس 1 کے خیال کو ایک روی چیز کی طرح اپنے دل سے باہر پھینک دیا۔ یہ میں نے اس لئے کہا کہ ممکن ہے کہ عیسائی مذہب کے قرب وجوار کے اثر کی وجہ سے کوئی ایسا شخص جو نجی ہو اور جس کی درایت صحیح نہ ہو یہ خیال رکھتا ہو کہ شاید عیسی اب تک زندہ ہی ہے مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ اس وعظ صدیقی کے بعد کل صحابہ اس بات پر متفق ہو گئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے جتنے نبی تھے سب مر چکے ہیں اور یہ پہلا اجماع تھا جو صحابہ میں ہوا۔ اور صحابہ رضی اللہ عنہم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں محو تھے کیوں کر اس بات کو قبول کر سکتے تھے کہ باوجود یکہ ان کے بزرگ نبی نے جو تمام نبیوں کا سردار ہے چوسٹھ برس کی بھی پوری عمر نہ پائی مگر عیسی چھ سو برس سے آسمان پر زندہ بیٹھا ہے۔ ہرگز ہرگز محبت نبوی فتویٰ نہیں دیتی کہ وہ عیسی علیہ السلام کی نسبت بالتخصیص ایسی فضیلت قائم کرتے ۔ لعنت ہے ایسے اعتقاد پر جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین لازم آوے۔ وہ لوگ تو عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ وہ تو اس بات کے سننے سے زندہ ہی مرجاتے کہ اُن کا پیارا رسول فوت ہو گیا مگر عیسی آسمان پر زندہ بیٹھا ہے۔ وہ رسول نہ اُن کو بلکہ خدا تعالیٰ کو بھی تمام نبیوں سے زیادہ پیارا تھا۔ اسی وجہ سے جب عیسائیوں نے اپنی بدقسمتی سے اس رسول مقبول کو قبول نہ کیا اور اُس کو اتنا اُڑایا کہ خدا بنا دیا تو خدا تعالیٰ کی غیرت نے تقاضا کیا کہ آل عمران : ۱۴۵