تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 22

۲۰ روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۲ تذكرة الشهادتين گئی وہ عیسی تھا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس اُمت کا کوئی فرد اول اپنے خدا داد تقوی کی وجہ سے مریم بنے گا اور پھر عیسی ہو جائے گا جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدائے تعالیٰ نے پہلے میرا نام مریم رکھا اور پھر شیخ روح کا ذکر کیا اور پھر آخر میں میرا نام عیسی رکھ دیا۔ اور حدیثوں میں تو صاف لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات میں حضرت عیسی کو مردہ روحوں میں ہی دیکھا۔ آپ عرش تک پہنچ گئے مگر کوئی عیسی نام ایسا نظر نہ آیا جو معہ جسم عنصری علیحدہ تھا۔ دیکھا تو وہی روح دیکھی جو بی وفات یافتہ کے پاس تھی ظاہر ہے کہ زندوں کو مُردوں کے مکان میں گزارنہیں ہو سکتا۔ غرض خدا نے اپنے قول سے حضرت عیسی کی وفات پر گواہی دی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فعل سے یعنی رویت سے وہی گواہی دے دی ۔ اگر اب بھی کوئی نہ سمجھے تو پھر اس سے خدا سمجھے گا۔ ماسوا اس کے یہود سے زیادہ اُن کو تجربہ ہو چکا ہے کہ خدا تعالیٰ کی عادت نہیں ہے کہ دوبارہ دنیا میں لوگوں کو بھیجا کرے ورنہ ہمیں تو عیسی کی نسبت حضرت سید نا محمد مصطفے کے دوبارہ دنیا میں آنے کی زیادہ ضرورت تھی اور اسی میں ہماری خوشی تھی مگر خدا تعالیٰ نے اِنَّكَ مَيْتُ - کہہ کر اس امید سے محروم کر دیا۔ یہ بات سوچنے کے لائق ہے کہ اگر دوبارہ دنیا میں آنے کا دروازہ کھلا تھا تو خدا تعالیٰ نے کیوں چند روز کے لئے الیاس نبی کو دوبارہ دنیا میں نہ بھیجا اور اس طرح پر لاکھوں یہودیوں کو واصل جہنم کیا۔ آخر حضرت مسیح نے آپ ہی یہ فیصلہ دیا کہ دوبارہ آنے سے کسی مثیل کا آنا مراد ہے۔ یہ فیصلہ اب تک انجیلوں میں لکھا ہوا موجود ہے۔ پھر جو بات ایک مرتبہ طے پا چکی ہے اور جو راہ خطرناک ثابت ہو چکا ہے اسی راہ پر پھر قدم مارنا عقلمندوں کا کام نہیں ہے۔ یہودیوں نے اس بات پر ضد کر کے کہ الیاس نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا بجز کفر اور روسیاہی کے کیا فائدہ اُٹھایا تا اس زمانہ کے مسلمان اُس فائدہ کی توقع رکھیں ۔ جس سوراخ سے ایک بڑا گروہ کا نا گیا اور ہلاک ہو چکا ہے پھر کیوں یہ لوگ اسی سوراخ میں ہاتھ ڈالتے ہیں۔ کیا حديث لا يلدغ المؤمن من جحر واحد مرتین یاد نہیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے مرنا بھلا دیا ہے۔ وہ لوگ جس سورت کو پانچ وقت اپنی نمازوں میں پڑھتے ہیں یعنی غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ " کیوں اس کے معنوں میں غور نہیں کرتے اور الزمر : ٣١ الفاتحة :