تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 21

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۱ تذكرة الشهادتين دی تو اس کے بعد مجھے کیا علم ہے کہ عیسائیوں نے کونسی راہ اختیار کی ۔ اگر وہ یہی جواب دیں گے کہ مجھے خبر نہیں تو ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی جھوٹا نہیں ہوگا کیونکہ جس شخص کو یہ علم ہے کہ وہ دنیا میں دوبارہ آیا تھا اور عیسائیوں کو دیکھا تھا کہ اس کو خدا سمجھ رہے ہیں اور اس کی پرستش کرتے ہیں اور ان سے لڑائیاں کیں اور پھر وہ خدا تعالیٰ کے روبرو انکار کرتا ہے کہ مجھے کچھ بھی خبر نہیں کہ میرے بعد انہوں نے کیا کیا اس سے زیادہ کا ذب کون ٹھہر سکتا ہے۔ جواب صحیح تو یہ تھا کہ ہاں میرے خداوند مجھے عیسائیوں کی گمراہی کی خوب خبر ہے کیونکہ میں دوبارہ دنیا میں جا کر چالیس برس تک وہاں رہا اور صلیب کو توڑا پس میرا کچھ گناہ نہیں ہے۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ مشرک ہیں تو میں اُسی وقت ان کا دشمن ہو گیا بلکہ ایسی صورت میں کہ جبکہ قیامت سے پہلے حضرت عیسی علیہ السلام چالیس برس تک دنیا میں رہ چکے ہوں گے اور اُن سب کو سزائیں دی ہوں گی جو اُن کو خدا سمجھتے تھے خدا تعالیٰ کا ایسا سوال اُن سے ایک لغو سوال ہوگا کیونکہ جبکہ خدا تعالیٰ کے علم میں یہ بات ہے کہ اس شخص نے اپنے (19) معبود ٹھہرائے جانے کی اطلاع پا کر ایسے لوگوں کو خوب سزا دی تو پھر ایسا سوال کرنا اس کی شان سے بعید ہے۔ غرض جس قدر مسلمانوں کو خدا تعالیٰ نے یہ کھول کر سنا دیا ہے کہ عیسیٰ فوت ہو گیا ہے اور پھر دنیا میں نہیں آئے گا۔ ہاں اس کا مثیل آنا ضروری ہے۔ اگر اس قسم کی تصریح ملا کی نبی کے صحیفہ میں ہوتی تو یہود ہلاک نہ ہوتے۔ پس بلا شبہ وہ لوگ یہود سے بدتر ہیں کہ جو اس قدر تصریحات خدا تعالیٰ کے پاک کلام میں پا کر پھر حضرت عیسی کے دوبارہ آنے کے منتظر ہیں۔ ماسوا اس کے ہمارے مخالف مولوی لوگوں کو دھوکہ دے کر یہ کہا کرتے ہیں کہ قرآن شریف سے اگر چہ نہیں مگر حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے مگر ہمیں معلوم نہیں کہ حدیثوں میں کہاں اور کس جگہ لکھا ہے کہ وہی اسرائیلی نبی جس کا عیسی نام تھا جس پر انجیل نازل ہوئی تھی با وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے کے پھر دنیا میں آجائے گا۔ اگر صرف عیسی یا ابن مریم کے نام پر دھو کہ کھانا ہے تو قرآن کریم کی سورۃ تحریم میں اس امت کے بعض افراد کا نام عیسی اور ابن مریم رکھ دیا گیا ہے۔ ایماندار کے لئے اس قدر کافی ہے کہ اس امت کے بعض افراد کا نام بھی عیسی یا ابن مریم رکھا گیا ہے کیونکہ جب خدا تعالیٰ نے سورہ موصوفہ میں بعض افراد اُمت کو مریم سے مشابہت دی اور پھر اس میں شیخ روح کا ذکر کیا تو صاف ظاہر ہے کہ وہ روح جو مریم میں پھونکی