تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 16

روحانی خزائن جلد ۲۰ 17 تذكرة الشهادتين چاہیں گے اور اپنے قومی تعصبیہ کو اس کی مخالفت میں بھڑکائیں گے۔ اس لئے وہ آسمان پر مغضوب علیھم کہلائیں گے اُن یہودیوں کی مانند جو حضرت عیسی علیہ السلام کے مکذب تھے جس تکذیب کا آخر کار نتیجہ یہ ہوا تھا کہ سخت طاعون یہود میں پڑی تھی اور بعد اس کے طیطوس رومی کے ہاتھ سے وہ نیست و نابود کئے گئے تھے۔ پس آیت غیر المغضوب علیھم سے ظاہر ہے کہ دنیا میں ہی کوئی غضب اُن پر نازل ہوگا کیونکہ آخرت کے غضب میں تو ہر ایک کا فرشریک ہے اور آخرت کے لحاظ سے تمام کافر مغضوب علیہم ہیں پھر کیا وجہ کہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں خاص کر کے اُن یہودیوں کا نام مغضوب علیھم رکھا جنہوں نے حضرت عیسی کو سولی دینا چاہا تھا بلکہ اپنی دانست میں سولی دے چکے تھے۔ پس یادر ہے کہ ان یہودیوں کو مغضوب علیہم کی خصوصیت اس لئے دی گئی کہ دنیا میں ہی اُن پر غضب الہی نازل ہوا تھا اور اسی بنا پر سورہ فاتحہ میں اس اُمت کو یہ دعا سکھلائی گئی کہ خدایا ایسا کر کہ وہی یہودی ہم نہ بن جائیں یہ ایک پیشگوئی تھی جس کا یہ مطلب تھا کہ جب اس اُمت کا مسیح مبعوث ہو گا تو اس کے مقابل پر وہ یہود بھی پیدا ہو جائیں گے جن پر اسی دنیا میں خدا کا غضب نازل ہو گا۔ پس اس دعا کا یہ مطلب تھا کہ یہ مقدر ہے کہ تم میں سے بھی ایک مسیح پیدا ہو گا اور اس کے مقابل پر یہود پیدا ہوں گے جن پر دنیا میں ہی غضب نازل ہوگا ۔ سوتم دعا کرتے رہو کہ تم ایسے یہود نہ بن جاؤ۔ یہ بات یا درکھنے کے لائق ہے کہ یوں تو ہر ایک کا فرقیامت میں مور د غضب الہی ہے لیکن اس جگہ غضب سے مراد دنیا کا غضب ہے جو مجرموں کے سزا دینے کے لئے دنیا میں ہی نازل ہوتا ۱۴ ہے اور وہ یہودی جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو دکھ دیا تھا اور بموجب نص قرآن کریم ان کی زبان پر لعنتی کہلائے تھے وہ وہی لوگ تھے جن پر دنیا میں ہی عذاب کی مار پڑی تھی یعنی اوّل سخت طاعون سے وہ ہلاک کئے گئے تھے اور پھر جو باقی رہ گئے تھے وہ طیطوس رومی کے ہاتھ سے سخت عذاب کے ساتھ ملک سے منتشر کئے گئے تھے۔ پس غیر المغضوب عليهم میں یہی عظیم الشان پیشگوئی مخفی ہے کہ وہ لوگ جو مسلمانوں میں سے یہودی کہلائیں گے وہ بھی ایک مسیح کی تکذیب کریں گے جو اُس پہلے مسیح کے رنگ پر آئے گا یعنی نہ وہ جہاد کرے گا اور نہ تلوار اُٹھائے گا