تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 11

تذكرة الشهادتين روحانی خزائن جلد ۲۰ پہنچا تو میں نے اُن سے دریافت کیا کہ کن دلائل سے آپ نے مجھے شناخت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ سب سے پہلے قرآن ہے جس نے آپ کی طرف میری رہبری کی اور فرمایا کہ میں ایک ایسی طبیعت کا آدمی تھا کہ پہلے سے فیصلہ کر چکا تھا کہ یہ زمانہ جس میں ہم ہیں۔ اس زمانہ کے اکثر مسلمان اسلامی روحانیت سے بہت دور جا پڑے ہیں۔ وہ اپنی زبانوں سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے مگر اُن کے دل مومن نہیں۔ اور اُن کے اقوال اور افعال بدعت اور شرک اور انواع و اقسام کی معصیت سے پُر ہیں۔ ایسا ہی بیرونی حملے بھی انتہا تک پہنچ گئے ہیں۔ اور اکثر دل تاریک پردوں میں ایسے بے حس و حرکت ہیں کہ گویا مر گئے ہیں۔ اور وہ دین اور تقویٰ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے جس کی تعلیم صحابہ رضی اللہ عنہم کو دی گئی تھی اور وہ صدق اور یقین اور ایمان جو اس پاک جماعت کو ملا تھا بلا شبہ اب وہ باعث کثرت غفلت کے مفقود ہے اور شاذ نادر حکم معدوم کا رکھتا ہے۔ ایسا ہی میں دیکھ رہا تھا کہ اسلام ایک مردہ کی حالت میں ہو رہا ہے اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ پردہ غیب سے کوئی منجانب اللہ مجدد دین پیدا ہو۔ بلکہ میں روز بروز اس اضطراب میں تھا کہ وقت تنگ ہوتا جاتا ہے۔ انہیں دنوں میں یہ آواز میرے کانوں تک پہنچی کہ ایک شخص نے قادیان ملک پنجاب میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میں نے بڑی کوشش سے چند کتابیں آپ کی تالیف کردہ بہم پہنچا ئیں ۔ اور انصاف کی نظر سے ان پر غور کر کے پھر قرآن کریم پر ان کو عرض کیا تو قرآن شریف کو ان کے ہر ایک بیان کا مصدق پایا۔ پس وہ بات جس نے پہلے پہلے مجھے اس طرف حرکت دی وہ یہی ہے کہ میں نے دیکھا کہ ایک طرف تو قرآن شریف بیان کر رہا ہے کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے اور واپس نہیں آئیں گے۔ اور دوسری طرف وہ موسوی سلسلہ کے مقابل پر اس امت کو وعدہ دیتا ہے کہ وہ اس امت کی مصیبت اور ضلالت کے دنوں میں ان خلیفوں کے رنگ میں خلیفے بھیجتا رہے گا جو موسوی سلسلہ کے قائم اور بحال رکھنے کے لئے بھیجے گئے تھے۔ سو چونکہ ان میں سے حضرت عیسی علیہ السلام ایک ایسے خلیفے تھے جو موسوی سلسلہ کے آخر میں پیدا ۹ ہوئے اور نیز وہ ایسے خلیفے تھے کہ جو لڑائی کے لئے مامور نہیں ہوئے تھے اس لئے خدا تعالیٰ کے کلام سے ضرور یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کے رنگ پر بھی اس اُمت میں آخری زمانہ میں کوئی پیدا ہو۔ اسی طرح بہت سے کلمات معرفت اور دانائی کے اُن کے منہ سے میں نے سنے جو بعض یادر ہے اور بعض بھول گئے اور وہ کئی مہینے تک میرے پاس رہے۔ اور اس قدر ان کو میری باتوں میں دلچسپی ہوئی کہ انہوں نے میری باتوں کو