تذکرة الشہادتین — Page 10
تذكرة الشهادتين روحانی خزائن جلد ۲۰ نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اس غرض سے کہ ریاست کابل سے اجازت حاصل ہو جائے حج کے لئے مصم ارادہ کیا اور امیر کا بل سے اس سفر کے لئے درخواست کی۔ چونکہ وہ امیر کا بل کی نظر میں ایک برگزیدہ عالم اور تمام علماء کے سردار سمجھے جاتے تھے۔ اس لئے نہ صرف اُن کو اجازت ہوئی بلکہ امداد کے طور پر کچھ روپیہ بھی دیا گیا۔ سو وہ اجازت حاصل کر کے قادیان میں پہنچے۔ اور جب مجھ سے اُن کی ملاقات ہوئی تو قسم اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ان کو اپنی پیروی اور اپنے دعوے کی تصدیق میں ایسا فنا شدہ پایا کہ جس سے بڑھ کر انسان کے لئے ممکن نہیں۔ اور جیسا کہ ایک شیشہ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ ایسا ہی میں نے ان کو اپنی محبت سے بھرا ہوا پایا۔ اور جیسا کہ اُن کا چہرہ نورانی تھا ایسا ہی اُن کا دل مجھے نورانی معلوم ہوتا تھا۔ اس بزرگ مرحوم میں نہایت قابل رشک یہ صفت تھی کہ در حقیقت وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتا تھا۔ اور وہ در حقیقت اُن راستبازوں میں سے تھا جو خدا سے ڈر کر اپنے تقویٰ اور اطاعت الہی کو انتہا تک پہنچاتے ہیں اور خدا کے خوش کرنے کے لئے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنی جان اور عزت اور مال کو ایک ناکارہ خس و خاشاک کی طرح اپنے ہاتھ سے چھوڑ دینے کو طیار ہوتے ہیں۔ اُس کی ایمانی قوت اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ اگر میں اُس کو ایک بڑے سے بڑے پہاڑ سے تشبیہ دوں تو میں ڈرتا ہوں کہ میری تشبیہ ناقص نہ ہو۔ اکثر لوگ باوجود بیعت کے اور باوجود میرے دعوے کی تصدیق کے پھر بھی دنیا کو دین پر مقدم رکھنے کے زہر یلے تم سے بکلی نجات نہیں پاتے بلکہ کچھ ملونی اُن میں باقی رہ جاتی ہے۔ اور ایک پوشیدہ بخل خواہ وہ جان کے متعلق ہو خواہ آبرو کے متعلق اور خواہ مال کے اور خواہ اخلاقی حالتوں کے متعلق ان کے نامکمل نفسوں میں پایا جاتا ہے۔ اس وجہ سے ان کی نسبت ہمیشہ میری یہ حالت رہتی ہے کہ میں ہمیشہ کسی خدمت دینی کے پیش کرنے کے وقت ڈرتا رہتا ہوں کہ ان کو ابتلا پیش نہ آوے۔ اور اس خدمت کو اپنے پر ایک بوجھ سمجھ کر اپنی بیعت کو الوداع نہ کہ دیں لیکن میں کن الفاظ سے اس بزرگ مرحوم کی تعریف کروں جس نے اپنے مال اور آبرو اور جان کو میری پیروی میں یوں پھینک دیا کہ جس طرح کوئی روی چیز پھینک دی جاتی ہے۔ اکثر لوگوں کو میں دیکھتا ہوں کہ ان کا اول اور آخر برابر نہیں ہوتا اور ادنی سی ٹھو کر یا شیطانی وسوسہ یا بد صحبت سے وہ گر جاتے ہیں مگر اس جوانمر دمرحوم کی استقامت کی تفصیل میں کن الفاظ سے بیان کروں کہ وہ نوریقین میں دمبدم ترقی کرتا گیا اور جب وہ میرے پاس