تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxviii of 597

تذکرة الشہادتین — Page xxviii

۸۔تجلّیاتِ الٰہیہ حضور علیہ السلام کا یہ رسالہ مارچ ۱۹۰۶ء کی تصنیف ہے۔لیکن پہلی بار ۱۹۲۲ء میں شائع ہوا۔اِس میں حضور کے الہام ’’چمک دکھلاؤں گا تم کو اس نشان کی پنج بار‘‘ کے مطابق آئندہ پانچ دہشت ناک زلازل کی پیشگوئی فرمائی ہے۔اس رسالہ میں حضورؑ نے قہری نشانات کے نازل ہونے کی حکمت بھی بیان فرمائی ہے۔۹۔قادیان کے آریہ اور ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ کتاب جنوری ۱۹۰۷ء میں تحریر فرمائی اس کتاب کے تحریر فرمانے کی وجہ یہ تھی کہ حضورؑ نے دسمبر ۱۹۰۶ء کے سالانہ جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے یہ بیان فرمایا تھا کہ قادیان کے تمام ہندو خاص طور پر لالہ شرمپت اور لالہ ملاوامل میرے بیسیوں نشانات کے گواہ ہیں اور بہت ساری پیشگوئیاں جو آج سے پینتیس ۳۵ برس پہلے ان کے سامنے کی گئی تھیں آج پوری ہوئی ہیں۔قادیان کے آریوں کی طرف سے ایک اخبار ’’شبھ چنتک‘‘ نکلا کرتا تھا اس میں ہمیشہ ہی اسلام اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلاف نہایت ناشائستہ زبان استعمال کی جاتی تھی۔اس اخبار میں لالہ شرمپت اور لالہ ملاوامل کی طرف منسوب کر کے ایک اعلان شائع کیا گیا کہ ہم مرزا صاحب کے کسی بھی نشان کے گواہ نہیں ہیں۔حضور علیہ السلام نے اس رسالہ میں اپنے بہت سے ایسے نشانات کی تفصیل بیان فرمائی ہے جن کا تعلق مذکورہ دونوں آریہ صاحبان سے ذاتی طور پر تھا یا کم از کم وہ ان کے عینی گواہ تھے۔حضور علیہ السلام نے یہ نشانات پیش فرما کر لکھا:۔’’مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ سب بیان صحیح ہے اور کئی دفعہ لالہ شرمپت سُن چکا ہے اور اگر مَیں نے جھوٹ بولا ہے تو خدا مجھ پر اور میرے لڑکوں پر ایک سال کے اندر اس کی سزا نازل کرے۔آمین و لعنۃ اﷲ علی الکاذبین۔ایسا ہی شرمپت کو بھی چاہئے کہ وہ بھی میری اس قسم کے مقابل پر قسم کھاوے اور یہ کہے کہ اگر مَیں نے اس قسم میں جھوٹ بولا ہے تو خدا مجھ پر اور میری اولا دپر ایک سال کے اندر اس کی سزا وارد کرے۔آمین و لعنۃ اﷲ علی الکاذبین۔‘‘ (قادیان کے آریہ اور ہم ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۴۲ )