تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxvii of 597

تذکرة الشہادتین — Page xxvii

۷۔چشمۂ مسیحی یہ کتاب مارچ ۱۹۰۶ء کی تصنیف ہے۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بانس بریلی کے ایک مسلمان کی ترغیب پر عیسائیوں کی مشہور کتاب ’’ینابیع الاسلام‘‘ کا جواب تحریر فرمایا ہے۔ینابیع الاسلام کے مصنف نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن کریم میں کوئی نئی تعلیم نہیں بلکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے (نعوذ باﷲ) گذشتہ انبیاء کی کتب مقدسہ سے سرقہ کرکے قرآن شریف کو مرتب کیا ہے۔حضور علیہ السلام نے جواباً اس میں یہودی علماء کے حوالوں سے یہ ثابت فرمایا ہے کہ انجیل لفظاً بلفظٍ طالمود سے نقل ہے۔ایک ہندو نے یہ ثابت کیا ہے کہ انجیل بدھ کی تعلیم کا سرقہ ہے اور خود یورپ کے عیسائی محققین نے لکھا ہے کہ انجیل کی بہت سی عبارتیں اور تمثیلیں یوز آسف کے صحیفہ سے ملتی ہیں۔تو کیا اب مسیح کی تعلیمات کو بھی مسروقہ ہی قرار دے دیا جائے۔حضور علیہ السلام نے لکھا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا اگر کوئی حصہ قدیم نوشتوں سے ملتا ہے تو یہ وح ئ الٰہی میں توارد ہے ورنہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تو محض اُمّی تھے اور عربی بھی نہیں پڑھ سکتے تھے چہ جائیکہ یونانی یا عبرانی۔قرآن کریم ایک زندہ معجزہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس میں جو گذشتہ خبریں اور قصّے ہیں وہ بھی اپنے اندر پیشگوئیوں کا رنگ رکھتے ہیں اور پھر اس کی فصاحت و بلاغت بھی ایسا معجزہ ہے کہ آج تک کوئی اس کی نظیر پیش نہیں کر سکا۔اس کے بعد حضور علیہ السلام نے موجودہ عیسائیت کے عقائد تثلیث ، الوہیت مسیح ؑ اورکفارہ وغیرہ کا رد پیش کیا ہے اور اسلام اور عیسائیت کی تعلیمات دربارہ عفو و انتقام کا موازنہ پیش فرمایا ہے۔چشمۂ مسیحی کے خاتمہ کے طور پر ایک رسالہ نجاتِ حقیقی کے نام سے شامل ہے جس میں حضور علیہ السلام نے یہ ثابت فرمایا ہے کہ عیسائیوں کے نزدیک نجات کے معنے یہ ہیں کہ انسان گناہ کے مؤاخذہ سے رہائی پا جائے۔یہ محدود اور منفی معنے ہیں دراصل نجات اس دائمی خوشحالی کے حصول کا نام ہے جو خدا تعالیٰ کی محبت اور معرفت اور تعلق سے حاصل ہوتی ہے۔معرفت کی بنیاد اس امر پر ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کا صحیح علم ہو۔عیسائیت کے عقائد تثلیث اور الوہیت مسیح معرفت حقیقی کے خلاف ہیں۔حضور علیہ السلام نے ثابت فرمایا ہے کہ عیسائیت کے موجودہ عقائد کا خدا کے نبی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے کوئی تعلق نہیں یہ سب پولوس کی ذہنی تخلیق ہیں۔