تذکرة الشہادتین — Page xxii
کا ہی تسلسل ہے۔اس کتاب میں بھی حضورؑ نے مامورین و مصلحین ربّانی کی جملہ صفات، اخلاق عالیہ اور برکات کی تفصیل بیان فرمائی ہے جو مامورین کی صداقت کے ابدی معیارہیں اور یہ تمام امور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اپنی ذات پاک میں بدرجۂ اتم پائے جاتے ہیں۔’’سیرۃ الابدال‘‘ عربی زبان کا ایک بے نظیر شاہکار ہے جو اپنی فصاحت و بلاغت اور محاسن لفظی و معنوی میں بے مثل ہے۔۳۔لیکچر لاہور اسلام اور اس ملک کے دوسرے مذاہب یہ حضور علیہ السلام کا ایک لیکچر ہے جو ۳؍ ستمبر ۱۹۰۴ء کو لاہور کے ایک عظیم الشان جلسہ میں پڑھا گیا تھا۔یہ ’’لیکچر لاہور‘‘ کے نام سے بھی مشہور ہے۔اِس لیکچر میں حضور نے اسلام ، ہندو مذہب اور عیسائیت کی تعلیمات کا مو ازنہ پیش فرما کر اسلامی تعلیمات کی برتری ثابت فرمائی ہے۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں گناہ کی کثرت کا اصل سبب معرفتِ الٰہیہ کی کمی ہے۔اِس کا علاج نہ عیسائیوں کے کفارہ سے ممکن ہے نہ وید کی بیان کردہ تعلیمات سے۔اور معرفت کاملہ جو حقیقتاً خدا تعالیٰ کے مکالمہ و مخاطبہ سے ہی حاصل ہونی ممکن ہے اور اسلام کے سوا کسی دوسرے مذہب میں نہیں مل سکتی کیونکہ ہندوؤں اور عیسائیوں کے نزدیک وحی و الہام کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔مذہب کے د۲و حصّے ہوتے ہیں۔عقائد اور اعمال۔عقائد میں سے بنیادی عقیدہ اﷲ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا عقیدہ ہے۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسلام کا یہ بنیادی عقیدہ پیش فرما کر عیسائیت کی پیش کردہ تثلیث اور ویدوں کے عقیدہ رُوح و مادہ کے ازلی اور غیر مخلوق ہونے کی تردید فرمائی ہے۔اعمال کے متعلق قرآن کریم کی آیت 3 3 ۱ کو جامع قرار دیتے ہوئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حقوق العباد کے تین مراتب بیان فرمائے ہیں اور بتایا ہے کہ یہ تعلیم دوسرے مذاہب میں نہیں ہے۔حضور علیہ السلام نے مثال کے طور پر اسلام اور عیسائیت کی عفو و انتقام کے متعلق تعلیمات کا باہمی موازنہ فرما کر انجیلی تعلیمات کا غیر معقول ہونا ثابت فرمایا ہے اور آریوں کے عقیدہ تناسخ اور عیسائیوں کے عقیدہ جہنم کے دائمی ہونے کا ردّ فرما کر حضورؑ نے اسلامی تعلیمات کی برتری اور اسلام کے محاسن کو نہایت