تذکرة الشہادتین — Page xx
شہادت کے دلگداز واقعات بیان فرمانے کے بعد حضور علیہ السلام نے اپنی جماعت کو نصیحت فرماتے ہوئے اخروی زندگی کی تیاری کرنے اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور ساتھ ہی ان عقائد کا اختصار کے ساتھ ذکر ہے جو جماعت احمدیہ کا امتیازی نشان ہیں۔حضور علیہ السلام نے جہاں اپنی صداقت کے بہت سے دلائل بیان فرمائے ہیں وہاں قرآنی دلیل 3 ۱ کی پیروی میں بڑی تحدی کے ساتھ فرمایا:۔’’تم کوئی عیب افترا یا جھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے تاتم یہ خیال کرو کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افترا کا عادی ہے یہ بھی اس نے جھوٹ بولا ہو گا۔کون تم میں ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے؟ پس یہ خدا کا فضل ہے کہ جو اس نے ابتداء سے مجھے تقویٰ پر قائم رکھا اور سوچنے والوں کے لئے یہ ایک دلیل ہے۔(تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد نمبر۲۰ صفحہ ۶۴ ) پھر حضور علیہ السلام سِلسلہ احمدیہ کے روشن مستقبل کے متعلق پیشگوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔’’اے تمام لوگو سُن رکھوکہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا وے گا اور حجت اور برہان کے رُو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہو گا جو عزّت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔‘‘ (تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۶۶) ’’تذکرۃ الشہادتین‘‘ کا عربی حصہ تین رسائل پر مشتمل ہے۔۱۔الوقت وقت الدعاء لاوقت الملاحم و قتل الاعداء اس رسالہ میں حضور علیہ السلام نے اس امر کو پیش فرمایا ہے کہ اسلام کی اشاعت تلوار کی محتاج نہیں۔خاص طور پر اس زمانہ میں اﷲ تعالیٰ نے مسیح موعود کے لئے دعا کو آسمانی حربہ قرار دیا ہے اور انبیاء کی پیشگوئیاں بھی ہیں کہ مسیح موعود دعا سے فتح پائے گا اور اس کے ہتھیار براہین و دلائل ہوں گے۔حضور علیہ السلام