تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 127

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۲۷ علامات المقربين ہوں۔ بحث کے وقت علماء نے پوچھا کہ تو اس قادیانی شخص کے حق میں کیا کہتا ہے جو 119 مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ تو مولوی صاحب نے جواب دیا کہ ہم نے اُس شخص کو دیکھا ہے اور اُس کے امور میں بہت غور کی ہے اُس کی مانند زمین پر کوئی موجود نہیں اور بیشک اور بلا شبہ وہ مسیح موعود ہے اور وہ مردوں کو زندہ کر رہا ہے ۔ تب ملانوں نے شور کر کے کہا کہ وہ کافر اور تو بھی کافر ہے اور ان کو امیر کی طرف سے بحالت نہ تو بہ کرنے کے سنگسار کرنے کے لئے دھمکی دی گئی اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اب میں مروں گا تب یہ آیت پڑھی۔ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ یعنی اے ہمارے خدا ہمارے دل کو لغزش سے بچا اور بعد اس کے جو تو نے ہدایت دی ہمیں پھسلنے سے محفوظ رکھ اور اپنے پاس سے ہمیں رحمت عنایت کر کیونکہ ہر ایک رحمت کو تو ہی بخشتا ہے۔ پھر جب ان کو سنگسار کرنے لگے تو یہ آیت پڑھی۔ اَنْتَ وَلِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَالْحِقْنِي بِالصّلِحِينَ " یعنی اے میرے خدا تو دنیا اور آخرت میں میرا متولی ہے مجھے اسلام پر وفات دے اور اپنے نیک بندوں کے ساتھ ملا دے۔ پھر بعد اس کے پتھر چلائے گئے اور حضرت مرحوم کو شہید کیا گیا۔ إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْه راجعون ۔ اور صبح ہوتے ہی کابل میں ہیضہ پھوٹ پڑا اور نصر اللہ خان حقیقی بھائی امیر حبیب اللہ خان کا جو اصل سبب اس خونریزی کا تھا اس کے گھر میں ہیضہ پھوٹا اور اس کی بیوی اور بچہ فوت ہو گیا اور چاز تو کے قریب ہر روز آدمی مرتا تھا اور شہادت کی رات آسمان سرخ ہو گیا۔ اور اس سے پہلے مولوی صاحب فرماتے تھے کہ مجھے بار بار الہام ہوتا ہے۔ اذهب الى فرعون انی معك أسمع و أرى و أنت محمد معنبر معطر ۔ اور فرمایا کہ مجھے الہام ہوتا ہے کہ آسمان شور کر رہا ہے اور زمین اس شخص کی طرح کانپ رہی ہے جو آپ لرزہ میں گرفتار ہو۔ دنیا اس کو نہیں جانتی یہ امر ہونے والا ہے اور فرمایا کہ مجھے ہر وقت الہام ہوتا ہے کہ اس راہ میں اپنا سر دے دے اور دریغ نہ کر کہ خدا نے کابل کی زمین کی بھلائی کے لئے یہی چاہا ہے۔ ال عمران: ۹ يوسف : ١٠٢