تذکرة الشہادتین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 597

تذکرة الشہادتین — Page 126

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۲۶ علامات المقربين (۱۸) بقیہ حالات حضرت صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف صاحب مرحوم میاں احمد نور جو حضرت صاحبزادہ مولوی عبداللطیف صاحب کے خاص شاگرد ہیں آج ۸ / نومبر ۱۹۰۳ء کو مع عیال خوست سے قادیان میں پہنچے ۔ ان کا بیان ہے کہ مولوی صاحب کی لاش برابر چالیس دن تک ان پتھروں میں پڑی رہی جن میں وہ سنگسار کئے گئے تھے بعد اس کے میں نے چند دوستوں کے ساتھ مل کر رات کے وقت ان کی نعش مبارک نکالی اور ہم پوشیدہ طور پر شہر میں لائے اور اندیشہ تھا کہ امیر اور اس کے ملازم کچھ مزاحمت کریں گے مگر شہر میں وہائے ہیضہ اس قدر پڑ چکا تھا کہ ہر ایک شخص اپنی بلا میں گرفتار تھا اس لئے ہم اطمینان سے مولوی صاحب مرحوم کا قبرستان میں جنازہ لے گئے اور جنازہ پڑھ کر وہاں دفن کر دیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ مولوی صاحب جب پتھروں میں سے نکالے گئے تو کستوری کی طرح ان کے بدن سے خوشبو آتی تھی اس سے لوگ بہت متاثر ہوئے۔ اس واقعہ سے پہلے کابل کے علماء امیر کے حکم سے مولوی صاحب کے ساتھ بحث کرنے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ مولوی صاحب نے اُن کو فرمایا کہ تمہارے دو خدا ہیں کیونکہ تم امیر سے ایسا ڈرتے ہو جیسا کہ خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے مگر میرا ایک خدا ہے اس لئے میں امیر سے نہیں ڈرتا ۔ اور جب گھر میں تھے اور ابھی گرفتار نہیں ہوئے تھے اور نہ اس واقعہ کی کچھ خبر تھی اپنے دونوں ہاتھوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے میرے ہاتھو! کیا تم ہتکڑیوں کی برداشت کر لو گے۔ ان کے گھر کے لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیا بات آپ کے منہ سے نکلی ہے۔ تب فرمایا کہ نماز عصر کے بعد تمہیں معلوم ہوگا کہ یہ کیا بات ہے۔ تب نماز عصر کے بعد حاکم کے سپاہی آئے اور گرفتار کر لیا اور گھر کے لوگوں کو انہوں نے نصیحت کی کہ میں جاتا ہوں اور دیکھو ایسا نہ ہو کہ تم کوئی دوسری راہ اختیار کرو ۔ جس ایمان اور عقیدہ پر میں ہوں چاہیے کہ و ہی تمہارا ایمان اور عقیدہ ہو۔ اور گرفتاری کے بعد راہ میں چلتے وقت کہا کہ میں اس مجمع کا نوشاہ