سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 68

روحانی خزائن جلد ۲ ۵۶ سرمه چشم آرید اور انکار نجات جاودانی با ہم لازم ملزوم ہے اور ایک دوسرے سے پیدا ہوتا ہے۔ سو در حقیقت جو شخص یہ بات ثابت کرنا چاہے کہ خدائے تعالیٰ کے رب العلمین اور خالق نہ ہونے میں کچھ حرج نہیں اُس کو یہ ثابت کرنا بھی لازم آجائیگا کہ خدائے تعالیٰ کے کامل بندوں کا ہمیشہ جنم مرن کے عذاب میں مبتلا رہنا اور کبھی دائی نجات نہ پانا یہ بھی کچھ مضائقہ کی بات نہیں غرض بعد بہت سے سمجھانے کے پھر ماسٹر صاحب کچھ سمجھے اور جواب لکھنا شروع کیا اور تین گھنٹہ تک بہت سے وقت اور غم و غصہ کے بعد ایک ٹکڑہ سوال کا جواب قلم بند کر کے سنایا اور دوسرے ٹکڑہ کی بابت جو مکتی کے بارہ میں تھا یہ جواب دیا کہ اس کا جواب ہم اپنے مکان پر جا کر لکھ کر بھیج دیں گے۔ چنانچہ اس طرف سے ایسا جواب لینے سے انکار ہوا اور عرض کر دیا گیا کہ آپ نے جو کچھ لکھنا ہے اسی جلسہ میں حاضرین کے رو برو تحریر کریں اگر گھر میں بیٹھ کر لکھنا تھا تو پھر اس جلسہ بحث کی ضرورت ہی کیا تھی مگر ماسٹر صاحب نے نہ مانا اور کیونکر مانتے اُن کی تو اُس وقت حالت ہی اور ہورہی تھی ۔ اب قصہ کوتاہ یہ کہ جب کسی طور سے ماسٹر صاحب نے لکھنا منظور نہ کیا تو نا چار پھر یہ کہا گیا کہ جس قدر آپ نے لکھا ہے وہی ہم کو دیں تا اُس کا ہم جواب الجواب لکھیں تو اس کے جواب میں انہوں نے بیان کیا کہ اب ہماری سماج کا وقت ہے اب ہم بیٹھ نہیں سکتے نا چار جب وہ جانے کے لئے مستعد ہوئے تو اُن کو کہا گیا کہ آپ نے یہ اچھا نہیں کیا کہ جو کچھ باہم عہد ہو چکا تھا اس کو تو ڑ دیا نہ آپ پورا جواب لکھا اور نہ ہمیں اب جواب الجواب لکھنے دیتے ہیں۔ خیر بدرجۂ ناچاری یہ جواب الجواب بھی بطور خود تحریر کر کے رسالہ کے ساتھ شامل کیا جائے گا چنانچہ یہ بات سنتے ہی ماسٹر صاحب معہ اپنے رفیقوں کے اُٹھ کر چلے گئے اور حاضرین جلسہ جن کے نام حاشیہ میں درج ہیں بخوبی معلوم کر گئے کہ ماسٹر صاحب کی یہ تمام کارروائی گریز اور کنارہ کشی کے لئے ایک بہانہ تھی۔