سُرمہ چشم آریہ — Page 69
روحانی خزائن جلد ۲ ۵۷ سرمه چشم آرید اب ہم قبل اس کے کہ ماسٹر صاحب کا پہلا سوال جوشق القمر کے بارہ میں ہے حاشیه نام حاضرین جلسہ جو ماسٹر صاحب کی بیجا کارروائی کے گواہ ہیں۔ شیخ مہر علی صاحب رئیس اعظم ہوشیار پور ۔ مولوی الہی بخش صاحب وکیل ہوشیار پور ۔ ڈاکٹر مصطفے علی صاحب۔ بابو احمد حسین صاحب ڈپٹی انسپکٹر پولیس ہوشیار پور۔ میاں عبد اللہ صاحب حکیم ۔ میاں شہاب الدین صاحب دفعدار۔ لالہ نرائن داس صاحب وکیل ۔ پنڈت جگن ناتھ صاحب وکیل ۔ لالہ رام چھمن صاحب ہیڈ ماسٹر اور بیانہ۔ بابو ہرکشن داس صاحب سیکنڈ ماسٹر۔ لالہ گنیش داس صاحب وکیل ۔ لالہ سیتا رام صاحب مہاجن ۔ میاں شتر گھن صاحب پسر کلاں راجہ صاحب سوکیت۔ میاں شترن جی صاحب پسر خورد راجہ صاحب موصوف منشی گلاب سنگھ صاحب سرشتہ دار۔ مولوی غلام رسول صاحب مدرس ۔ مولوی فتح الدین صاحب مدرس۔ ان تمام حاضرین کے رو برو لالہ مُرلیدھر صاحب ڈرائینگ ماسٹر نے ہر ایک بات میں نا انصافی کی۔ اس عاجز نے اپنا اعتراض ایک گھنٹہ کے قریب سنا دیا تھا مگر انہوں نے تین گھنٹہ تک وقت لیا اور پھر بھی اعتراض کا ایک ٹکڑہ چھوڑ گئے اصلی منشا اُن کا یہ معلوم ہوتا تھا کہ کسی طرح دن گذر جائے اور اس بلا سے نجات پائیں مگر دن اُن کا دشمن ابھی تیسرے حصہ کے قریب سر پر کھڑا تھا اور واضح رہے کہ ماسٹر صاحب کا یہ عذر کہ اب ہماری سماج کا وقت آگیا ہے بالکل عبث اور کچا بہا نہ تھا ۔ اوّل تو ماسٹر صاحب نے پہلے کوئی ایسی شرط نہیں کی تھی کہ جب سماج کا وقت ہوگا تو بحث کو درمیان چھوڑ کر چلے جائیں گے ماسوائے اس کے یہ تو دین کا کام تھا اور جن لوگوں نے سماج میں حاضر ہونا تھا وہ تو سب موجود تھے بلکہ بہت سے ہندو اور مسلمان اپنا اپنا کام چھوڑ کر اسی غرض سے حاضر تھے اور تمام محن مکان کا حاضرین سے بھرا ہوا تھا سو اگر ماسٹر صاحب کی نیت میں فرق نہ ہوتا تو اسی جلسہ عظیمہ کو جو صد ہا آدمیوں