سُرمہ چشم آریہ — Page 326
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۱۴ سرمه چشم آرید لیکن اگر فریق مخالف انجام کا جھوٹا نکلا اور وہ تمام خوبیاں جو ہم اپنے ان اصولوں یا تعلیموں میں ثابت کر کے دکھلا دیں بمقابل ان کے وہ اپنے اصولوں میں ثابت نہ کر سکا تو پھر یاد رکھنا چاہیے کہ اسے بلا توقف مسلمان ہونا پڑے گا اور اسلام لانے کے لئے اول حلف اٹھا کر اسی عہد کا اقرار کرنا ہوگا اور پھر بعد میں ہم اس کے اعتراضات کا جواب ایک رسالہ مستقلہ میں شائع کرادیں گے۔ اور جو اس کے بالمقابل اصولوں پر ہماری طرف سے حملہ ہو گا اس حملہ کی مدافعت میں اس پر لازم ہوگا کہ وہ بھی ایک مستقل رسالہ شائع کرے اور پھر دونوں رسالوں کے چھپنے کے بعد کسی ثالث کی رائے پر یا خود فریق مخالف کے حلف اٹھانے پر فیصلہ ہوگا جس طرح وہ راضی ہو جائے لیکن شرط یہ ہے کہ فریق مخالف نامی علماء میں سے ہو اور اپنے مذہب کی کتاب میں مادہ علمی بھی رکھتا ہو اور ہمقابل ہمارے حوالہ اور بیان کے اپنا بیان بھی بحوالہ اپنی کتاب کے تحریر کر سکتا ہو۔ تا ناحق ہمارے اوقات کو ضائع نہ کرے۔ اور اگر اب بھی کوئی نامنصف ہمارے اس صاف صاف منصفانہ طریق سے گریز اور کنارہ کر جائے اور بدگوئی اور دشنام دہی اور توہین اسلام سے بھی باز نہ آوے تو اس سے صاف ظاہر ہوگا کہ وہ کسی حالت میں اس لعنت کے طوق کو اپنے گلے سے اتارنا نہیں چاہتا کہ جو خدائے تعالیٰ کی عدالت اور انصاف نے جھوٹوں اور بے ایمانوں اور بد زبانوں اور بخیلوں اور متعصبوں کی گردن کا ہار کر رکھا ہے۔ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى بالا خر واضح رہے کہ اس اشتہار کے جواب میں ۲۰ ستمبر ۱۸۸۶ء سے تین ماہ تک کسی پنڈت یا پادری جواب دہندہ کا انتظار کیا جائے گا اور اگر اس عرصہ میں علماء آریہ وغیرہ خاموش رہے تو انہیں کی خاموشی ان پر حجت ہوگی۔ المشـ خاکسار غلام احمد مؤلف رساله سرمه چشم آریہ