سُرمہ چشم آریہ — Page 322
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۱۰ سرمه چشم آرید ۲۲۰ کی نسبت شریف اور سلیم الطبع معلوم ہوتے ہیں اور لالہ مرلیدھر صاحب ڈرائینگ ماسٹر ہوشیار پور جو وہ بھی میری دانست میں آریوں میں سے غنیمت ہیں اور منشی اندرمن صاحب مراد آبادی جو گویا دوسرا مصرعہ سورتی صاحب کا ہیں اور مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب سابق اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر رئیس امرتسر جو حضرات عیسائیوں میں سے شریف اور سلیم المزاج آدمی ہیں اور پادری عماد الدین لاہر صاحب امرتسری اور پادری ٹھاکر داس صاحب مؤلف کتاب اظهار عیسوی شائع کیا جاتا ہے کہ اب ہم بجائے ایک سال کے صرف چالیس روز اس شرط سے مقرر کرتے ہیں کہ جو صاحب آزمائش و مقابلہ کرنا چاہیں وہ برابر چالیس دن تک ہمارے پاس قادیان میں یا جس جگہ اپنی مرضی سے ہمیں رہنے کا اتفاق ہور ہیں اور برابر حاضر ر ہیں پس اس عرصہ میں اگر ہم کوئی امر پیشگوئی جو خارق عادت ہو پیش نہ کریں یا پیش تو کریں مگر بوقت ظہور وہ جھوٹا نکلے یا وہ جھوٹا تو نہ ہو مگر اسی طرح صاحب ممتحن اس کا مقابلہ کر کے دکھلا وہیں تو مبلغ پانسو روپیہ نقد بحالت مغلوب ہونے کے اسی وقت بلا توقف ان کو دیا جائے گا لیکن اگر وہ پیشگوئی وغیرہ بہ پایۂ صداقت پہنچ گئی تو صاحب مقابل کو بشرف اسلام مشرف ہونا پڑے گا۔ اور یہ بات نہایت ضروری قابل یادداشت ہے کہ پیشگوئیوں میں صرف زبانی طور پر نکتہ چینی کرنا یا اپنی طرف سے شرائط لگانا ناجائز اور غیر مسلم ہوگا بلکہ سیدھا راہ شناخت پیشگوئی کا یہی قرار دیا جائے گا کہ اگر وہ پیشگوئی صاحب مقابل کی رائے میں کچھ ضعف یا شک رکھتی ہے یا ان کی نظر میں قیافہ وغیرہ سے مشابہ ہے تو اسی عرصہ چالیس روز میں وہ بھی ایسی پیشگوئی ایسے ہی ثبوت سے ظاہر کر کے دکھلاویں اور اگر مقابلہ سے عاجز رہیں تو پھر حجت ان پر تمام ہوگی اور بحالت سچے نکلنے پیشگوئی کے بہر حال انہیں مسلمان ہونا پڑے گا اور یہ تحریریں پہلے سے جانبین میں تحریر ہو کر انعقاد پا جائیں گی چنانچہ اس رسالہ کے شائع ہونے کے وقت سے یعنے ۲۰ ستمبر ۱۸۸۶ء سے ٹھیک تین ماہ کی مہلت صاحبان موصوف کو دی جاتی ہے اگر اس عرصہ میں ان کی طرف سے اس مقابلہ کے لئے کوئی منصفانہ تحریک نہ ہوئی تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ گریز کر گئے ۔ والسلام علی من اتبع الہدی ۔ fris خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب