سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 318 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 318

روحانی خزائن جلد ۲ ٣٠٦ سرمه چشم آریہ ۲۵۶) جیو کا کوئی رب یعنی پیدا کنندہ نہیں ایسا ہی میرا جسمی مادہ بھی پیدا کرنے والے سے بکلی بے نیاز ہے۔ میں پرمیشر کی طرح خود بخود ہوں اور واجب الوجود اور قدیم اور انادی ہوں ۔ میری روح اور میرا جسمی مادہ کسی دوسرے کے سہارے سے نہیں بلکہ قدیم سے یہ دونوں ٹکڑے میرے وجود کے قائم بالذات ہیں۔ ایسا ہی وید کی اس تعلیم پر بھی میرا کامل یقین ہے کہ مکتی یعنی نجات ہمیشہ کے لئے کسی کو نہیں مل سکتی اور ہمیشہ عزت کے بعد ذلت کا دورہ لگا ہوا ہے۔ میں وید کی ان سب تعلیموں کو دلی یقین سے مانتا ہوں کہ پرمیشر ایک ذرہ کے پیدا کرنے پر بھی قادر نہیں اور نہ بغیر عمل کسی عامل کے ایک ذرہ کسی پر رحمت کر سکتا ہے اور نہ بغیر ہزاروں جونوں میں ڈالنے کے ایک ذرہ گناہ تو به یا استغفار یا سچی پرستش اور محبت سے بخش سکتا ہے اور میں وید کے رو سے اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ چاروں وید ضرور ایشر کا کلام ہے جو ہمیشہ اور قدیم سے ہر نئی دنیا میں ہمارے ہی آریہ دیس میں چار رشیوں پر جو اگنی اور وایو وغیرہ ہیں اتر تا رہا ہے کبھی اس سے باہر نہیں اترا اور نہ کبھی ہماری زبان سنسکرت کے سوا