سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 313 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 313

روحانی خزائن جلد ۲ سرمه چشم آرید میں بیان کی گئی ہیں ان کو باطل اور دروغ خیال کرتے ہیں تو اس بارہ میں ہم سے (۲۵۱) مباہلہ کر لیں اور کوئی مقام مباہلہ کا برضامندی فریقین قرار پا کر ہم دونوں فریق تاریخ مقررہ پر اس جگہ حاضر ہو جائیں اور ہر یک فریق مجمع عام میں اٹھ کر اس مضمون مباہلہ کی نسبت جو اس رسالہ کے خاتمہ میں بطور نمونہ اقرار فریقین قلم جلی سے لکھا گیا ہے تین مرتبہ قسم کھا کر تصدیق کریں کہ ہم فی الحقیقت اس کو سچ سمجھتے ہیں اور اگر ہمارا بیان راستی پر نہیں تو ہم پر اسی دنیا میں وہال اور عذاب نازل ہو۔ غرض جو جو عبارتیں ہر دو کاغذ مباہلہ میں مندرج ہیں جو جانبین کے اعتقاد ہیں بحالت دروغ گوئی عذاب مترتب ہونے کے شرط پر ان کی تصدیق کرنی چاہیے اور پھر فیصلہ آسمانی کے انتظار کے لئے ایک برس کی مہلت ہوگی پھر اگر برس گزرنے کے بعد مؤلف رسالہ ہذا پر کوئی عذاب اور وبال نازل ہوا یا حریف مقابل پر نازل نہ ہوا تو ان دونوں صورتوں میں یہ عاجز قابل تاوان پانسو روپیہ ٹھہرے گا جس کو برضامندی فریقین خزانہ سرکاری میں یا جس جگہ بآسانی وہ روپیہ مخالف کو مل سکے داخل کر دیا جائے گا اور در حالت غلبہ خود بخو داس روپیہ کے وصول کرنے کا فریق مخالف مستحق ہوگا اور اگر ہم غالب آئے تو کچھ بھی شرط نہیں کرتے کیونکہ شرط کے عوض میں وہی دعا کے آثار کا ظاہر ہونا کافی ہے۔ اب ہم ذیل میں مضمون ہر دو کاغذ مباہلہ کولکھ کر رسالہ ھذا کو ختم کرتے ہیں وباللہ التوفیق ۔ بقيه حاشیه لطف همیم دلبر ہر دم مرا بخواند هر چند می زنند این اغیار راه ما را در کوئے دستانم چوں خاک کو شب و روز دیگر نشان چه باشد ا قبال و جاه ما را منه