سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 312 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 312

روحانی خزائن جلد ۲ سرمه چشم آرید ۲۵۰ کی عزت رکھ لی اور مقرون کے معزز خطاب سے ملقب ہو گیا لیکن اگر اس عرصہ میں کسی ویددان نے تحریک نہ کی تو وہ خطاب جو مقرون کے مقابل پر ہے سب نے اپنے لئے قبول کر لیا اور اگر پھر بھی باز نہ آویں تو آخر ائیل مباہلہ ہے جس کی طرف ہم پہلے اشارت کر آئے ہیں۔ مباہلہ کے لئے وید خوان ہونا ضروری نہیں ہاں باتمیز اور ایک باعزت اور نامور آریہ ضرور چاہیے جس کا اثر دوسروں پر بھی پڑ سکے سوسب سے پہلے لالہ مرلید ھر صاحب اور پھر لالہ جیوند اس صاحب سکرٹری آریہ سماج لاہور اور پھر منشی اندر من صاحب مراد آبادی اور پھر کوئی اور دوسرے صاحب آریوں میں سے جو معزز اور ذی علم تسلیم کئے گئے ہوں مخاطب کئے جاتے ہیں کہ اگر وہ وید کی ان تعلیموں کو جن کو کسی قدر ہم اس رسالہ میں تحریر کر چکے ہیں۔ فی الحقیقت صحیح اور بچے سمجھتے ہیں اور ان کے مقابل جو قرآن شریف کے اصول و تعلیمیں اس رسالہ ۲۵۰ بقيه حاشیه اُسے خدا تو نہیں کہہ سکوں پہ کہتا ہوں کہ اُس کی مرتبہ دانی میں ہے خدا دانی کیا ہی خوش نصیب وہ آدمی ہے جس نے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیشوائی کے لئے قبول کیا اور قرآن شریف کو رہنمائی کے لئے اختیار کر لیا۔ اللهم صل عـلـى سـيـدنا و مولانا محمد واله واصحابه اجمعين۔ الـحـمـد لـلـه الـذي هدى قلبنا لحبه ولحب رسوله وجميع عباده المقربين تا بر دلم نظر شد از مهر ماه ما را کر دست سیم خالص قلب سیاه ما را بقیه حاشیه که (ع) بڑا ہے رک سے اور رک بڑا ہے و س سے ۔ پس ثابت در حاشیه ہوا کہ (ع جو مرکز تک کھنچا ہے سب خطوط سے بڑا ہے یہی ہمارا دعوی تھا فقط - منه