سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 308 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 308

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۹۶ سرمه چشم آرید ۲۳۲) ہوتی ہیں یعنی طریقہ حقہ خداشناسی و معرفت نعماء الہی و بجا آوری اعمال صالحہ و تحصیل اخلاق مرضیه و تزکیه نفس عن رذائل نفسیه ان سب معارف کے صحیح اور حق طور پر بیان کرنے سے دید بکلی محروم ہے۔ کیا کوئی آریہ صفحہ زمین پر ہے کہ ہمارے مقابل پر ان امور میں وید کا قرآن شریف سے مقابلہ کر کے دکھلاوے؟ اگر کوئی زندہ ہو تو ہمیں اطلاع دے بقيه حاشیه وہ بخط مستقیم قدم بڑھا سکتے ہیں۔ ترقی کریں تو یہ خطوط مستقیمہ ترقی کی اپنی عمودی حالت میں وتر کے اُن اُن نقاط کو جاملیں گے جو ٹھیک ٹھیک ان کے محاذات میں پڑے ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس سفلی قوس میں ایک نقطہ ایسا بھی ضرور ہے کہ جو ٹھیک ٹھیک نقطه مرکز کے محاذ ہے اب فرض کرو کہ وہ نقطہ ج ہے جو مرکز ع کے محاذ ہے اسی طرح نقطہ د کا خط ص اور نقطہ ب کا خط ط اور نقطہ ک کا خط م کا محاذ ہے جب کہ یہ امر بہ بداہت ظاہر ہے تو اب ہم کہتے ہیں کہ ثبوت ہند سے سے ہاستعانت انیسویں شکل مقاله اول اقلیدس و سینتالیسو گیس شکل مقاله مذکور بپا یہ صداقت پہنچ سکتا ہے کہ اگر کسی طرف محیط کے کئی نقاط فرض کر کے قطر دائرہ تک خطوط مستقیمہ عمودی حالت میں کھینچے جائیں تو سب سے بڑا وہ خط مستقیم ہو گا جو نقطہ مرکز تک پہنچے گا۔ * اور یہ امر حاشیه فرض کرو کہ دائره ( ب س ج ب س ج کے قوس در حاشیه ب ج ل میں نقاط و ور و اول وم و ن سے خطو یا مستقیم و سی اور رک و رع و ل ق و م ط و ن ص و ج ب قطر کے نقاط س ک و ع وق و ط و ص تک عمودی حالت میں کھینچے ہوئے ہیں اور ان میں رع وہ خط مستقیم ہے جو کہ مرکز ع تک کہ نقطہ کا