سُرمہ چشم آریہ — Page 300
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۸۸ سرمه چشم آرید ۲۴۰ اور فریبی اور ٹھگ کے نام سے موسوم کرتے ہیں ان میں سے کوئی بھلا مانس یہ خیال نہیں کرتا کہ اول تو حکمت اور رحمت عامہ خدائے تعالٰی سے یہ بہت بعید ہے کہ قدیم سے اور ازل سے ابد تک ایک خاص اور محمد و دجگہ سے بے وجہ تعلق پیدا کر کے ہزار ہا ممالک وسیعہ کو اپنے الہام اور کلام سے اور براه راست فیض یاب ہونے سے ہمیشہ کے لئے محروم رکھے ماسوا اس کے بقيه حاشیه اتفاق کر کے مسیحی کتب خانوں میں جا گھسے اور اپنی طرف سے برنباس کی انجیلوں میں جا بجا محمد نبی نام درج کر دیا یا خود یونانی یا عبرانی زبانوں میں اپنی طرف سے انجیل برنباس بنا کر اور کئی ہزار نسخے اس کے لکھ کر پوشیدہ طور پر جبکہ عیسائی سوتے تھے وہ کتابیں ان کے کتب خانوں میں رکھ آئے لیکن ایک انگریز فاضل عیسائی جس نے کچھ تھوڑا عرصہ ہوا قرآن شریف کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے اس نے اپنے دیباچہ میں اس تقریب کے بیان میں کہ انجیل برنباس میں پیش گوئی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں موجود ہے یہ قصہ تحریر کیا ہے کہ برنباس کی انجیل پوپ پنجم کے کتب خانہ میں تھی اور ایک راہب جو اس پوپ کا دوست تھا اور مدت سے اس انجیل کی تلاش میں تھا۔ وہ پوپ کی الماری میں جبکہ پوپ سو یا ہوا تھا اس انجیل کو پا کر بہت خوش ہوا اور کہا کہ یہ میری وہ مراد ہے جو مدت کے بعد پوری ہوئی اور اس انجیل کو اپنے دوست پوپ کی اجازت سے لے گیا اور نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھلا کھلا انجیل میں لکھا ہوا دیکھ کر مسلمان ہو گیا پس اس فاضل انگریز کی اس تحریر سے جو ہمارے پاس موجود ہے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ یہ کتاب پوپوں کے کتب خانوں میں چاروں انجیلوں میں شامل کر کے عزت کے ساتھ رکھی جاتی تھی تب ہی تو ایسے ایسے بزرگ اور فاضل راہب اس انجیل کو پڑھ کر مسلمان جاد حاشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں۔