سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 289

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۷۷ سرمه چشم آریه عدم شے لازم نہیں آتا جس حالت میں کرہ ارض میں خاصیت زلازل وانشقاق و اتصال ۲۲۹ پائی جاتی ہے چنانچہ بعض گذشتہ زمانوں میں صدہا میل تک زمین منشق ہو کر تہ و بالا ہوگئی ہے اور اب بھی ایسے حوادث ظہور میں آتے رہتے ہیں اور ان حوادث سے اس کی گردش یا میں کچھ بھی فرق نہیں آتا تو پھر حوادث قمری پر کیوں تعجب کیا جائے کیا ممکن نہیں کہ اس میں حکیم مطلق نے انشقاق و اتصال کی دونوں خاصیتیں رکھی ہوں جن کا ظہور اوقات مقررہ سے وابستہ ہو اور ازلی ارادہ سے وہی وقت ظہور مقرر ہو جب کہ ایک نبی سے ایسا ہی معجزہ مانگا گیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نبی کی قوت قدسیہ کے اثر سے دیکھنے والوں کو کشفی آنکھیں عطا کی گئی ہوں اور جو انشقاق قرب قیامت میں پیش آنے والا ہے اس کی صورت ان کی آنکھوں کے سامنے لائی گئی ہو کیونکہ یہ بات محقق ہے کہ مقربین کی کشفی قوتیں اپنی شدت حدت کی وجہ بقيه حاشیه قرب حاصل تھا سو یہ سخن بھی مقام جمع سے سرزد ہوا اور مقام جمع قاب قوسین کا ۲۹ مقام ہے جس کی تفاصیل کتب تصوف میں موجود ہے ایسا ہی اللہ تعالیٰ نے مقام جمع کے لحاظ سے کئی نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے رکھ دیئے ہیں جو خاص اس کی صفتیں ہیں جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد رکھا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ نہایت تعریف کیا گیا سو یہ غایت درجہ کی تعریف حقیقی طور پر خدائے تعالیٰ کی شان کے لائق ہے مگر خالی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی ایسا ہی قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نور جو دنیا کو روشن کرتا ہے اور رحمت جس نے عالم کو زوال سے بچایا ہوا ہے آیا ہے اور روف اور رحیم جو خدائے تعالیٰ کے نام ہیں ان ناموں سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پکارے گئے ہیں اور کئی مقام قرآن شریف میں اشارات و تصریحات سے بیان ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مظہر اتم الوہیت ہیں اور ان کا کلام خدا کا کلام اور ان کا ظہور خدا کا ظہور اور ان کا