سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 286

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۷۴ سرمه چشم آرید ۲۲ کی صداقتوں پر مشتمل ہونے میں۔ تمام مذاہب باطلہ کو عقلی طور پر رد کرنے میں ۔حقوق عباداللہ کے قائم کرنے میں ۔ تأثیرات و تنویرات روحانیہ میں اور پھر با ایں ہمہ فصیح اور بلیغ اور رنگین عبارت میں۔ اس کمال کے درجہ تک پہنچا ہوا ہے کہ ہر یک حصہ اس کے بیان کا ان بیانات میں سے در حقیقت معجزہ عظیمہ ہے جس کا مقابلہ نہ کوئی آریہ کر سکتا ہے نہ کوئی عیسائی اور نہ کوئی یہودی اور نہ کوئی اور شخص جو کسی مذہب کا پابند ہے ۔ اس جگہ بید سراسر بے ثمر ہے اور توریت و انجیل سراسر بے اثر ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی کتاب نے یہ دعوی نہیں کیا جو قرآن شریف نے کیا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے۔ قُل نَّبِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا ۔ لے یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر سب جن وانس اس بات پر متفق ہو جائیں کہ قرآن کی کوئی نظیر پیش کرنی چاہئے تو ممکن نہیں کہ کرسکیں اگر چہ بعض بعضوں بقيه حاشیه ابن کے لئے بجائے اب ہے ۔ اور حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیم کا اضافی طور پر ناقص ہونا اور قرآنی تعلیم کا سب الہامی تعلیموں سے اکمل و اتم ہونا وہ بھی در حقیقت اسی بناء پر ہے کیونکہ ناقص پر ناقص فیضان ہوتا ہے اور اکمل پر اکمل ۔ اور جو تشبیہات قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خالی طور پر خداوند قادر مطلق سے دی گئی ہیں ان میں سے ایک یہی آیت ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلی ۔ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى : یعنی وہ ( حضرت سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی ترقیات کا ملہ قرب کی وجہ سے دو قوسوں میں بطور وتر کے واقع ہے بلکہ اس سے نزدیک تر ۔ اب ظاہر ہے کہ وتر کی طرف اعلیٰ میں قوس الوہیت ہے سو جب کہ نفس پاک محمدی اپنے شدت قرب اور نہایت درجہ کی صفائی کی وجہ سے وتر کی حد سے آگے بڑھا اور دریائے الوہیت سے نزدیک تر ہوا تو اس بنی اسرائیل : ۸۹ النجم : 9 1•9: