سُرمہ چشم آریہ — Page 283
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۷۱ سرمه چشم آرید کہ کنہ اشیاء تک نہیں پہنچتا بلکہ وہ کچھ تھوڑا ہی چل کر پھر آگے چلنے سے رہ جاتا ہے مثلاً (۲۲۳) انسان ایک حجری مومیائی کو دیکھ کر اس قدر تو کہہ سکتا ہے کہ یہ مومیائی بخارات لطیفہ پتھر میں سے نکلی ہے اور پھر پتھر پر غور کر کے کہہ سکتا ہے کہ یہ پتھر بالو یعنی ریت کی دہنیت دار اجزاء سے وجود پذیر ہوا ہے اور پھر بالو کی نسبت رائے ظاہر کر سکتا ہے کہ وہ خاک کے بعض تغیرات سے پیدا ہوئی ہے لیکن اگر اس کے بعد یہ آخری سوال کیا جائے کہ خاک کہاں سے اور کیونکر پیدا ہوگئی ہے۔ اور اس کے کنہ دریافت کرنے کی کیا فلاسفی ہے تو اس سوال کے حل کرنے سے عاجز رہ جاتا ہے اور اپنے جہل اور عجز کا اقرار کرتا ہے ایسا ہی ہر یک چیز کے انتہائی سوال پر اس کو اپنی نادانی کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔ اب ہم لکھتے ہیں کہ اگر پر میشر کا بھی یہی حال ہے کہ اس کا علم بھی انسان کے علم کی طرح کسی حد پر آ کر ٹھہر جاتا ہے اور اس حد مقررہ پر آ کر اس کو اپنے جہل و نادانی و ناتوانی کا اقرار کرنا پڑتا ہے تو بس پھر ہندوؤں کے پر میشر کی ساری کیفیت معلوم ہوگئی اور ثابت ہو گیا کہ ہندوؤں کا فرضی پر میشر علاوہ اور نقصانوں کے جاہل اور عاجز بھی ہے۔ لیکن اگر اس کا علم غیر محدود اور غیر منقطع ہے اور اس درجہ کاملہ کنہ اشیاء تک پہنچا ہوا ہے جس درجہ پر کسی علم کا پہنچنا عامل ہونے کو بقيه حاشیه بالا کی پیدائش کی کمیت یہی ہے جس کے تصور بالکنه و تصور بکنه سے تمام ۲۲۳ عقول و افہام بشریہ عاجز ہیں اور جس طرح ہر یک حیات خدائے تعالیٰ کی حیات سے مستفاض اور ہر یک وجود اس کے وجود سے ظہور پذیر اور ہر یک تعین اس کے تعین سے خلعت پوش ہے ایسا ہی نقطہ محمد یہ جمیع مراتب اکوان اور خطائر امکان میں باذنہ تعالی حسب استعدادات مختلفه و طبائع متفاوته مؤثر ہے اور چونکہ یہ نقطہ جمیع مراتب الہیہ کا ظلی طور پر اور جمیع مراتب کونیہ کا منبعی واصلی طور پر جامع بلکہ انہیں دونوں کا مجموعہ ہے اس لئے یہ ہر یک مرتبہ کو یہ پر جو عقول ونفوس گلمیه و جزئیہ ومراتب طبعیہ