سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 273

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۶۱ سرمه چشم آریہ اس موقع کے پڑھنے کے وقت اس رسالہ کا وہ حاشیہ بھی پڑھ لیں کہ جو حاشیہ ملحقہ اس متن سے پہلے تحریر پا چکا ہے۔ قولہ ۔ اس کے آگے مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ اگر سب روحیں غیر مخلوق اور خود بخود ہیں تو پھر خدا کسی روح سے بندگی کرانے کا مستحق نہیں رہے گا۔ کیونکہ سب روحیں اسے کہہ سکتی ہیں کہ جب کہ تو نے ہمیں پیدا ہی نہیں کیا اور نہ ہماری طاقتوں اور قوتوں اور استعدادوں کو تو نے بنایا تو پھر کس استحقاق سے ہم سے اپنی پرستش چاہتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے پہلے قباحتوں کے جواب میں ثابت کر دیا ہے کہ بغیر پر میشر کے جوڑنے جاڑنے کے تمام روحیں اور ان کی طاقتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پس جس نے جوڑ نے جاڑنے سے آرام اور سکھ میں ترقی کرنے کا سامان بخشا کیا وہ شکر گزاری اور عبادت کے لائق نہیں ۔ اقول ۔ افسوس کہ ہر چند اس ادھورے اور لکھنے پر میشر کی وکالت میں آپ نے جہاں تک بقيه حاشیه ان دونوں درجوں میں تفاوت درمیان ہے غرض اس درجہ میں محبت کمال لطافت (۲۱۳) تک پہنچ جاتی ہے اور مناسبت اور مشابہت بال بال میں ظاہر ہو جاتی ہے۔ خیال کرنا چاہئے کہ اگر چہ ایک شخص کمال عشق کی حالت میں اپنے معشوق سے ہمرنگ ہو جاتا ہے۔ مگر جو شخص اپنے باپ سے جس سے وہ نکلا ہے مشابہت رکھتا ہے اس کی مشابہت اور ہی آب وتاب رکھتی ہے۔ تیسری قسم کا قرب ایک ہی شخص کی صورت اور اس کے عکس سے مشابہت رکھتا ہے یعنی جیسے ایک شخص آئینہ صاف و وسیع میں اپنی شکل دیکھتا ہے تو تمام شکل اس کی معہ اپنے تمام نقوش کے جو اس میں موجود ہیں عکسی طور پر اس آئینہ میں دکھائی دیتی ہے ایسا ہی اس قسم ثالث قرب میں تمام صفات الہیہ صاحب قرب کے