سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 271 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 271

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۵۹ سرمه چشم آریه خدا کے اپنے کاموں سے بڑھ کر ہے اور اس سے خدا کی کوئی بہتک عزت نہیں ہوتی ۔ سوایسا ۲۱ ہی دوسری خود بخود ہونے والی چیزوں سے اس کی کوئی ہتک عزت نہیں ۔ اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اس جواب کو ہمارے اعتراض سے کیا تعلق ہے۔ یہ بات نہایت ظاہر و بدیہی ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ کی ذات و صفات اس کے کاموں سے جو اس کی مخلوقات ہے بڑھ کر نہ ہوتی تو مخلوق اپنے خالق سے اور مملوک اپنے مالک سے مساوی ہو جاتا تو اس طرح پر ضرور خدائے تعالیٰ کی ہتک عزت ہوتی کیونکہ مخلوق کا اپنے خالق سے برابر ہو جانا اور مملوک کا اپنے مالک سے ہم درجہ ہونا صریح موجب ہتک عزت مالک ہے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے جیسا خدا پیدا نہیں کرتا کہ یہ اس کی عزت ابدی و جلال از لی اور وحدت قدیمی کے برخلاف ہے اب جب کہ یہ ثابت ہے کہ خدائے تعالیٰ کی ہتک عزت اس بات میں ہے کہ کوئی مخلوق ومملوک ہو کر اس کی ذات وصفات کے برابر ہو تو ظاہر ہے کہ جو امر اس کا نقیض ہے یعنی یہ کہ مخلوق اپنی ذات وصفات میں اپنے خالق سے کم ہو یہ امر موجب بقيه حاشيه البقرة : ٢٠١ تشبہ سے مناسبت رکھتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔ فَاذْكُرُوا اللهَ ۲۱ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا لے یعنی اپنے اللہ جل شانہ کو ایسے دلی جوش محبت سے یاد کرو جیسا باپوں کو یاد کیا جاتا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ مخدوم اس وقت باپ سے مشابہ ہو جاتا ہے جب محبت میں غائت درجہ شدت واقع ہو جاتی ہے اور حب جو ہر یک کدورت اور غرض سے مصفا ہے دل کے تمام پر دے چیر کر دل کی جڑھ میں اس طرح سے بیٹھ جاتی ہے کہ گویا اس کی جز ہے تب جس قدر جوش محبت اور پیوند شدید اپنے محبوب سے ہے وہ سب حقیقت میں مادر زاد معلوم ہوتا ہے اور ایسا طبیعت سے ہمرنگ اور اس کی جز ہو جاتا ہے کہ سعی اور کوشش کا ذریعہ ہرگز یاد نہیں رہتا اور جیسے بیٹے کو اپنے باپ کا وجود تصور کرنے سے