سُرمہ چشم آریہ — Page 270
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۵۸ سرمه چشم آرید ۲۱۰ متمتع ہوتے ہیں۔ قولہ ۔ خدائے تعالیٰ جو خود بخود ہونے والی چیز ہے خدا کے اپنے کاموں سے بہت بڑھ کر ہے اور اس سے خدا کی کوئی بہتک نہیں ہوتی ۔ اقول ۔ بجز اس کے کیا کہوں کہ ۔ بریں عقل و دانش ہزار آفرین ۔ ہماری طرف سے تو اعتراض یہ تھا کہ جس حالت میں بقول آریہ صاحبان اصل پیدائش اشیاء خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں ۔ بلکہ جمیع اشیاء مادی و غیر مادی معه تمام خواص و عجائبات اپنے کے خود بخود ہیں تو اس میں پر میشر کی بڑی ہتک عزت ہے یعنی یہ امر اس کی بزرگی اور جلال اور حیثیت خدائی کے کسر شان کرتا ہے کہ جو چیزیں اس کے زیر حکم اور ماتحت ہیں وہ سب اپنے وجود اور اپنے جمیع خواص میں جو اعلیٰ درجہ کے عجائبات قدرت سے بھرے ہوئے ہیں خود بخود ہوں اور جوادنی درجہ کا کام ہے جو پہلے کام کے سہارے سے چلتا ہے فقط وہی کام پر میشر کے ہاتھ سے نکلا ہو اس کا جواب ماسٹر صاحب یہ دیتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ جو خود بخود ہونے والی چیز ہے بقیه رہتی ہے اور جیسی اللہ جل شانہ کو اپنی خوبی اور عظمت محبوب بالطبع ہے اسی طرح حاشيه اللہ تعالیٰ کا جلال ظاہر کرنا اس کے لئے محبوب بالطبع ہو جاتا ہے اور اپنے مخدوم حقیقی کی ہر ایک عادت و سیرت اس کی نظر میں ایسی پیاری ہو جاتی ہے کہ جیسی خود اس کو پیاری ہے۔ سو یہ مقام ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے۔ جن کے سینے محبت غیر سے بالکل منزہ وصاف ہو جاتے ہیں اور خدائے تعالیٰ کی رضا مندی کو ڈھونڈنے کے لئے ہر ایک وقت جان قربان کرنے کو طیار رہتے ہیں ۔ سینہ می باید تهی از غیر یار ۔ دل ہمی باید پر از یاد نگار ۔ جاں ہمی باید براہ او فدا سرهمی باید بہ پائے او شار ۔ نیچے دانی چیست دین عاشقاں ۔ گویت گر بشنوی عشاق دار از همه عالم فروبستن نظر - لوح دل شستن زغیر دوستدار ۔ قرب کی دوسری قسم ولد اور والد کے