سُرمہ چشم آریہ — Page 265
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۵۳ سرمه چشم آریہ کسی کو کیا مصیبت پڑی ہے کہ خواہ نخواہ اس کے لئے تکلیفیں اٹھاوے۔ یہ بات صاف ۲۰۵ ظاہر ہے کہ ہتک ایک ایسا لفظ ہے جس کا اثر اس کے دل پر ضرور ہوتا ہے جس کو کچھ شرم و غیرت بھی ہو سو اگر آپ کے پرمیشر میں کچھ شرم اور غیرت ہوتی تو اس سے زیادہ ہتک ہونے کی اور کیا بات تھی کہ جن کاموں کے کرنے پر وہ فخر کرتا ہے اور اپنے پر میشر ہونے کی انہیں دلیل ٹھہراتا ہے یعنی جوڑ نا جاڑنا ان کاموں کی نسبت دوسرے کام جو خود بخود بغیر دست اندازی پر میشر کے تسلیم کئے گئے ہیں ایسے اعلیٰ درجہ کے نکلے کہ پر میشر کے کاموں کو ان سے کچھ بھی نسبت نہیں پس اس صورت میں اگر پر میشر کی ہتک نہیں ہوتی تو کیا اس سے عزت ہوگئی اور اگر یہ باتیں پر میشر کی کسر شان کا موجب نہیں ہیں تو کیا اس کی عظمت اور جلال ظاہر ہونے کا باعث ہے سوچنا چاہیے کہ جس حالت میں تمام عجیب کام اور بے نظیر قدرتیں اور رنگا رنگ کے خواص خود بخود ہوئے تو کیا مجرد جوڑنے جاڑ نے سے ایک بڑا درجہ پر میشر ہونے کا ایسے ضعیف اور کمزور کو مل سکتا ہے بلکہ اگر غور کرو اور کچھ خداداد عقل کو کام میں لاؤ تو تمہیں معلوم ہوگا کہ جوڑ نا جاڑ نا در حقیقت ارواح اور اجسام کے پیدا کرنے کی فرع ہے یعنی جوڑ نا جاڑنا بھی اسی قادر مطلق کے ہاتھ سے بقيه حاشیه تفصیل سے مراتب ثلاثہ قرب کی حقیقت معلوم ہوتی ہے ۔ اول قسم قرب کی (۲۰۵) خادم اور مخدوم کے تشبہ سے مناسبت رکھتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ یعنی مومن جن کو دوسرے لفظوں میں بندہ فرماں بردار کہہ سکتے ہیں سب چیز سے زیادہ اپنے مولیٰ سے محبت رکھتے ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جیسے ایک نوکر با اخلاص و باصفا با وفا بوجہ مشاہدہ احسانات متواترہ و انعامات متکاثره و کمالات ذاتیہ اپنے آقا کی اس قدر محبت و اخلاص و یک رنگی میں ترقی کر جاتا ہے جو بوجہ ذاتی محبت کے جو اس کے دل میں البقرة : ١٦٦