سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 262

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۵۰ سرمه چشم آرید ۲۰۲ که آئینہ تصویر میں کوئی نقش بڑھا کر دکھا دیتا ہے بلکہ نقوش تو وہی ہوتے ہیں جو ہیں ہاں البتہ آئینہ میں وہ سب نقوش صاف طور پر نظر آ جاتے ہیں ایسا ہی جو خواص ارواح میں ہیں ان کا آئینہ جسم اور جسمی شکلیں ہیں اور جو خواص ذرات اجسام میں ہیں ان کا آئینہ ترکیب جسمی اور وہ روحیں ہیں جو ان کے ساتھ تعلق پکڑتی ہیں اور در حقیقت ان چیزوں کا با ہم آئینہ کا کام دینا یہ بھی ایک فطرتی خاصہ ہے اور اگر خدائے تعالی ارواح اور ذرات اور اجسام کا خالق نہیں تو اس کو اس خاصہ کے پیدا کرنے میں ذرا دخل نہیں کیونکہ خواص اشیاء کے تو خواہ نخواہ اپنے موقع پر ظہور میں آ جاتے ہیں اور درحقیقت یہ خاصہ بھی انہیں خواص ارواح واجسام میں سے ہے جن کو آریہ لوگ غیر مخلوق اور انادی کہتے ہیں۔ لیکن اب ماسٹر صاحب اپنے پر میشر کی پردہ پوشی کے لئے اس پر یہ احسان کرنا چاہتے ہیں کہ تا اس خاصہ کی پیدائش اس کی طرف منسوب کی جائے سو یہ کسی طرح منسوب نہیں ہو سکتی پنڈت دیا نند صاحب اپنے وید بھاش اور ستیارتھ پر کاش میں صاف اقرار کر چکے ہیں کہ نیستی سے ہستی نہیں ہو سکتی جو ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں وہ پیچھے سے کبھی نہیں ہو سکتا ۔ سواگر یہ خاصہ پہلے الگ الگ دو چیزوں میں مخفی طور پر موجود نہیں تھا تو پھر بقيه حاشیه پیدا کرتا ہے اسی قدر وہ ایمانی قوت پاتا ہے اور نورانیت اس کے دل میں پھیلتی ہے یاں تک کہ وہ اُسی کے رنگ میں آجاتا ہے اور ظلی طور پر ان سب کمالات کو پالیتا ہے جو اس کو حاصل ہیں اور جو وجود شر انگیز ہے یعنی وجود شیطان جس کا مقام ذو العقول کے قسم میں انتہائی نقطہ انحصاض میں واقع ہے اس کا اثر ہر ایک دل کو جو اس سے کچھ نسبت رکھتا ہے شرک کی طرف کھینچتا ہے جس قدر کوئی اس سے مناسبت پیدا کرتا ہے اسی قدر بے ایمانی اور خباثت کے خیال اس کو سو جھتے ہیں یاں تک کہ جس کو مناسبت نام ہو جاتی ہے وہ اسی کے رنگ اور روپ میں آکر پورا پورا شیطان ہو جاتا ہے