سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 261 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 261

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۴۹ سرمه چشم آریہ نہیں ہو سکتی مگر افسوس کہ اس ابدی تعلق جسم و روح کو دید نہیں مانتا اور صرف روح کو جس میں (۲۰۱) بقول ماسٹر صاحب بجر تعلق جسم کوئی روحی خاصہ نمایاں طور پر جلوہ پذیر نہیں ہوسکتا لذات کاملہ نجات و وصال الہی کے اٹھانے کے لئے کافی سمجھتا ہے۔ حالانکہ ابھی بیچارہ ماسٹر صاحب اقرار کر چکا ہے کہ روحانی صفات بجر تعلق موجودہ جسم کے کسی قسم کی کمالیت ظاہر نہیں کر سکتیں اب وید کو کون سمجھا وے اور دیا نند کی روح تک اس خبر کو کون پہنچاوے تا وہ ماسٹر صاحب سے سبق لے کر اپنے وید بھاش کی غلطیوں کو درست کر دیں۔ میں نے پہلے سے اسی رسالہ میں درج کر دیا ہے کہ جو جو صفات خداوند کریم جل شانہ نے ارواح میں رکھے ہیں یا جو جو خاصیتیں ذرات اجسام میں مودع کی ہیں وہ اگر چہ بجائے خود الگ الگ بھی ثابت و متحقق ہیں مگر ان کا ظہور بین اس وقت ہوتا ہے اور ان کے فوائد اس وقت بطور اتم و اکمل کھلتے ہیں جس وقت جسم اور روح کا باہم تعلق ہوتا ہے اس کی مثال بھی اسی پہلے موقع میں میں نے یہ دی تھی کہ جیسے تصویر کو آئینہ میں رکھنے میں تصویر کا رنگ و روپ زیادہ تر نظر آ جاتا ہے یہ بات ہر گز نہیں ہے بقيه حاشیه عقلی طور پر ضرور ماننا پڑتا ہے کہ جیسے سلسلہ ارتفاع کے انتہائی نقطہ میں ۲۰۱ ایک وجود خیر مجسم ہے جو دنیا میں خیر کی طرف ہادی ہو کر آیا اسی طرح اس کے مقابل پر ذوالعقول میں انتہائی نقطہ انحصاض میں ایک وجود شر انگیز بھی جو شر کی طرف جاذب ہو ضرور چاہیے اس وجہ سے ہر یک انسان کے دل میں باطنی طور پر بھی دونوں وجودوں کا اثر عام طور پر پایا جاتا ہے پاک وجود جو روح الحق اور نور بھی کہلاتا ہے یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا پاک اثر مجذ بات قدسیہ و تو جہات باطنیہ ہر ایک دل کو خیر اور نیکی کی طرف بلاتا ہے۔ جس قدر کوئی اُس سے محبت اور مناسبت ۲۰۲)