سُرمہ چشم آریہ — Page 260
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۴۸ سرمه چشم آرید ۲۰۰ ان کا عدم و وجود برابر ہے اس بیان میں ماسٹر صاحب نے بڑا دھوکا کھایا ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ جو کچھ روحوں اور جسموں کے ملنے کے بعد روحانی اور جسمانی خاصیتیں وجود انسان میں چپکتی ہیں وہ گویا ان کے پرمیشر کی کاری گری سے ظہور پذیر ہوتی ہیں حالانکہ یہ خیال بالکل غلط اور نا معقول ہے جو موٹی سمجھ سے پیدا ہوا ہے بلکہ اصل بات تو وہی ہے جس کو ہم پہلے تحریر کر چکے ہیں کہ جو مخفی طور پر روحوں اور جسموں میں الگ الگ خواص پائے جاتے ہیں وہی با ہم ترکیب اور امتزاج سے نمایاں ہو جاتے ہیں اور حالت تعلق جسم و روح تک قائم رہتی ہے۔ یہ بات فی الحقیقت بیچ اور راست راست ہے جس کو میں بھی تسلیم کرتا ہوں کہ جو خواص بعد ترکیب اور تعلق ارواح واجسام ظہور پذیر ہوتے ہیں وہ سب خواص نہ مجرد اجسام سے کھلے کھلے طور پر مترتب ہو سکتے ہیں نہ مجرد ارواح سے بلکہ ان کا ظہور و بروز کامل طور پر اجسام اور ارواح کے باہمی تعلق پر موقوف ہوتا ہے اور اسی وجہ سے میں اس رسالہ میں اس سے پہلے تحریر کر آیا ہوں کہ ارواح کو اپنی سعادت تامہ تک پہنچنے کے لئے عالم آخرت میں کوئی ابدی جسم ملنا ضروری ہے تا اس تعلق جسم کی وجہ سے وہ خواص کامل طور پر ظاہر ہو جائیں کہ جو مجرد روحوں میں بدیں صفائی و کمال ظاہر بقيه حاشیه چونکہ اس مطلب کو کچھ زیادہ تفصیل سے لکھنا موجب افادہ طالبین ہے اس لئے ہم کسی قدر اور تحریر کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔ اول ہم بیان کر چکے ہیں کہ صاحب انتہائی کمال کا جس کا وجود سلسلہ مخط خالقیت میں انتہائی نقطہ ارتفاع پر واقعہ ہے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ اور ان کے مقابل پر وہ خسیس وجود جو انتہائی نقطہ انحصاض پر واقعہ ہے اس کو ہم لوگ شیطان سے تعبیر کرتے ہیں اگر چہ بظا ہر شیطان کا وجود مشہود و محسوس نہیں لیکن اس سلسلہ خط خالقیت پر نظر ڈال کر اس قدر تو