سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 259

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۴۷ سرمه چشم آرید ۱۶ اقرار بوجود خالق حقیقی کی ایک قوت۔ ۱۷۔ اجسام کے ساتھ اور ان کے اشکال خاصہ کے ساتھ مل کر بعض نئے خواص کے ظاہر کرنے کی قوت ۔ ۱۸۔ ایک قوت کشش با ہمی جس کو مقناطیسی قوت کہنا چاہیے۔ ۱۹۔ ابدی طور پر قائم رہنے کی ایک قوت ۔ ۲۰۔ جسم مفارق کی خاک سے ایک خاص تعلق رکھنے کی قوت جو کشفی طور پر ارباب کشف قبور پر ظاہر ہوتی ہے۔ ایسا ہی اور بھی بہت سی ایسی قوتیں ہیں جن کا مفصل بیان نہایت لطافت اور خوبی سے قرآن شریف میں مندرج ہے اور ہم کو اگر شرطی رسالہ کے لکھنے کا موقع ملا تو ہم ان سب قوتوں اور روحانی خواص کو بحوالہ آیات بینات قرآنی معقول اور مفصل اور مدلل طور پر اسی رسالہ میں جو دید اور قرآن کے موازنہ کی غرض سے ہو گا درج کریں گے اب اس جگہ ہم مکرر یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ماسٹر صاحب کا یہ بیان کہ یہ سب قو تیں روحوں میں بیج کی طرح موجود ہیں اور جب تک جسم کا روح کے ساتھ تعلق نہ ہو تب تک بقيه حاشیه 199 خدائے تعالیٰ کی ذات کا نمونہ ہے۔ خدائے تعالیٰ دوسرا خدا ہرگز نہیں پیدا کرتا (199) کہ یہ بات اس کی صفت احدیت کے مخالف ہے ہاں اپنی صفات کمالیہ کا نمونہ پیدا کرتا ہے اور جس طرح ایک مصفا اور وسیع شیشہ میں صاحب رؤیت کی تمام و کمال شکل منعکس ہو جاتی ہے ایسا ہی انسان کامل کے نمونہ میں الہی صفات عکسی طور پر آجاتے ہیں سو خدائے تعالیٰ کا اس طرح پر اپنی مثل قائم کرنا معترض کی تسلی کے لئے کافی ہے۔ اس جگہ واضح رہے کہ اس انتہائی کمال کے وجود باجود کو خدائے تعالیٰ کی کتابوں میں مظہر نام الوہیت قرار دیا گیا ہے اور