سُرمہ چشم آریہ — Page 242
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۳۰ سرمه چشم آرید ۱۸۲) نظر سے چھپے ہوئے ہیں تب تک تم اس چیز کے بنانے پر قادر نہیں ہو سکتے سو ہندوؤں کا پر میشر جو روحوں کو بنا نہیں سکتا تو اس عجز اور نا توانی کی درحقیقت یہی وجہ ہے کہ وہ علم کیفیت ارواح اور ان کے خواص سے بالکل بے بہرہ ہے ۔ سو جبکہ ہندوؤں کا پر میشر علم روح سے آپ ہی بے بہرہ ہے تو پھر وہ دوسروں کو روح کا علم کیا سکھائے گا۔ او خویشتن گم است کرار ہبر می کند ۔ پس اس سے صاف ثابت ہو گیا کہ وہ الزام عدم علم روح جو محض عناد کی راہ سے ماسٹر صاحب اسلام پر اور قرآن شریف پر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے ہیں وہ در حقیقت ہندوؤں کے پرمیشر اور اس کے وید پر عائد حال ہوتا ہے بلکہ خود وید نے ضمنی طور پر اس الزام کو اپنے مصنف کے ذمہ مان لیا ہے۔ کیونکہ وید میں صاف اس بات کا اقرار پایا جاتا ہے کہ اس کا فرضی پر میشر روحوں کے پیدا کرنے سے بکی عاجز اور مجبور ہے پس جبکہ خود وید کے اقرار سے روح غیر مخلوق ہوئی حاشیه شاید کسی دل کو اس جگہ یہ وسوسہ پکڑے کہ اگر کسی شے پر پورا پورا علمی احاطہ ہونے سے وہ شے مخلوق ہو جاتی ہے تو علم حق سبحانہ تعالیٰ جو اپنی ذات سے متعلق ہے وہ بھی بہر حال کامل ہے تو کیا خدائے تعالی اپنی ذات کا آپ خالق ہے یا اپنی مثل بنانے پر قادر ہے اس میں اعتراض کے پہلے ٹکڑے کا تو یہ جواب ہے که اگر خدائے تعالیٰ اپنے وجود کا آپ خالق ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ اپنے وجود سے پہلے موجود ہو اور ظاہر ہے کہ کوئی شے اپنے وجود سے پہلے موجود نہیں ہوسکتی ورنہ تقدّم الشر على نفسه لازم آتا ہے بلکہ خدائے تعالیٰ جو اپنی ذات کا علم کامل رکھتا ہے تو اس جگہ عالم اور علم اور معلوم ایک ہی شے ہے جس میں علیحدگی اور دوئی کی گنجائش نہیں تو پھر اس جگہ وہ الگ چیز کون سی ہے جس کو مخلوق ٹھہرایا جائے سو ذاتی علم خدائے تعالیٰ کا جو اس کی ذات سے تعلق رکھتا ہے