سُرمہ چشم آریہ — Page 240
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۲۸ سرمه چشم آرید ۱۸۰) پر بڑا صدمہ پہنچے گا۔ یاں تک کہ اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہوگا اور نیز اس کے وجود پر بھی کوئی عقلی دلیل قائم نہیں ہو سکے گی۔ میں اس کا یہ جواب دیتا ہوں کہ مرزا صاحب خدا کی خدائی قائم رکھنے کے لئے ان لوگوں کو شاہد مقرر کرتے ہیں جو خواص روح سے واقفیت رکھتے ہوں مگر اسلام میں تو روح کے خواص خدا نے ظاہر ہی نہیں کئے جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں پھر ان کو اس کی کیا خبر ہے۔ اقول ۔ اے لالہ صاحب اگر قرآن شریف نے روح کے خواص بیان نہیں کئے تو پھر کس نے کئے۔ وید تو صرف اتنا ہی بول کر چپ ہو گیا کہ میرے مصنف کا روحوں پر کچھ دعویٰ نہیں اور روح غیر مخلوق اور خود بخود ہونے میں اس سے کچھ کم نہیں ہیں لیکن قرآن شریف کے نازل کر نیو الے نے روحوں کو اپنی ملکیت ٹھہرائی اور ان کی مخلوق اور بندہ ہونے کی نسبت دعوی کیا اور پچاس سے زیادہ عقلی دلیلوں کے ساتھ آپ ثابت کیا کہ تمام بنی آدم اور دوسرے حیوانوں کی روحیں مخلوق اور بندہ خدا ہیں اور پھر کھول کر مفصل طور پر سنایا کہ کیا کیا طاقتیں اور استعداد میں اور خاصیتیں ان میں رکھی گئی ہیں۔ یہ قرآن شریف ہی نے نہایت بار یک صداقت بیان کی ہے کہ جو کچھ متفرق طور پر عالم علوی و سفلی میں خواص عجیبہ پائے جاتے ہیں وہ سب انسانی روح کے وجود میں جمع ہیں لیکن وید کے رو سے تو روح کچھ چیز ہی نہیں اور اس کے خواص بھی ایسے ناکارہ ہیں کہ جن کا عدم وجود مساوی ہے چنانچہ اس بات کا خود آپ کو اقرار ہے اور آگے چل کر ابھی وہ عبارت ناظرین پڑھ لیں گے۔ اب فرمائیے کہ جس حالت میں آپ وید ہی اقرار کرتا ہے کہ ارواح غیر مخلوق ہیں تو پھر دید کے مصنف کو جو اُن سے بالکل بے تعلق ہے ان کی اندرونی حقیقت کیا معلوم ہوگی یہ بات تو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ بنانے والے کو جیسی اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی چیز کی خبر ہوتی ہے دوسرے کو جو اس کے بنانے والا نہیں اور بالکل بے تعلق ہے ہرگز ایسی خبر نہیں ہو سکتی یہ صداقت نہایت ہی صاف اور روشن ہے اور جب تک کوئی