سُرمہ چشم آریہ — Page 239
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۲۷ سرمه چشم آرید ہندو کو بھی جو بمقابل اس آریہ کے بات کر رہا تھا ایسا جوش آگیا کہ بے اختیار اس کے منہ ۷۹ ) سے نکل گیا کہ اگر پر میشر ایسا ہی عاجز ہے تو وہ پھر تیری ایسی تیسی کا پر میشر ہے چنانچہ اس بات پر ان دونوں میں ہاتھو پائی اور دست بگریباں ہونے کی نوبت پہنچ چلی تھی مگر لوگوں نے درمیان میں ہو کر ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا پس ان عام نفرتوں سے ظاہر ہے کہ دنیا میں کوئی بھی ایسا انسان نہیں ہے کہ اگر وہ اپنے تعصبات کو الگ کر کے سوچے تو وہ اس صاف اور بدیہی اور کھلی کھلی سچائی تک نہ پہنچ سکے کہ خدائے تعالیٰ کو اگر اس کی خوبیوں اور قدرتوں سے الگ کیا جائے تو پھر خود اس کو اپنی خدائی سے الگ ہونا پڑتا ہے کیا بجز اس کے کہ خدائے تعالیٰ ہر ایک وجود کا موجد ہے کوئی اور بھی بات چھپی ہوئی ہے جس کے رو سے خدا کو خدا کہا جاتا ہے۔ قوله - مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ ارواح کے غیر مخلوق اور خود بخود ماننے میں دوسری قباحت یہ ہے کہ ایسا اعتقاد خدائے تعالیٰ کو خدائی سے جواب دے رہا ہے۔ کیونکہ جولوگ علم نفس اور خواص ارواح سے واقف ہیں وہ خوب سمجھتے ہیں کہ جس قدر روحوں میں عجائب و غرائب خواص بھرے ہوئے ہیں وہ صرف جوڑ نے جاڑنے سے پیدا نہیں ہو سکتے۔ مثلاً روحوں میں ایک کشفی قوت ہے جس سے وہ پوشیدہ باتوں کو بعد مجاہدات باز نہ تعالیٰ دریافت کر سکتے ہیں اور ایک قوت ان میں عقلی ہے جس سے وہ امور عقلیہ کو معلوم کر لیتے ہیں ایسا ہی ایک قوت محبت بھی ان میں ہے جس سے وہ خدائے تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں اگر ان تمام قوتوں کو خود بخود بلا ایجاد کسی موجد کے مان لیا جائے تو پر میٹر کی اس میں بڑی ہتک عزت ہے گویا یہ کہنا پڑے گا کہ جو عمدہ اور اعلیٰ کام تھے وہ تو خود بخود ہیں اور جوادنی اور ناقص کام تھا وہ پر میشر کے ہاتھ سے ہوا اور اس بات کا اقرار کرنا ہوگا کہ جو خود بخود عجائب کام پائے جاتے ہیں وہ پر میشر کے کاموں سے کہیں بڑھ کر ہیں یہاں تک کہ پر میشر بھی ان سے حیران ہے غرض اس اعتقاد سے آریہ صاحبوں کے خدا کی خدائی