سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 238 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 238

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۲۶ سرمه چشم آرید (۱۷۸) اعتقاد ہے اور جب لالہ مرلی دھر صاحب اس اعتراض کا جواب لکھنے بیٹھے تو وہ چند ہندو صاحب اٹھ کر چلے گئے کہ ہم ہرگز ایسا بیہودہ جواب جس میں پر میشر کی نند یا یعنی تو ہین ہے سننا نہیں چاہتے ۔ ایسا ہی ایک صاحب نے میرے پاس بیان کیا کہ امرتسر کے مقام میں کوئی آریہ صاحب کسی جگہ بازار میں بکھیان کے طور پر یہ ذکر کر رہے تھے کہ پر میشر کا پر میشر پن صرف جوڑ نے جاڑنے تک ختم ہے اور اس سے آگے اسے کچھ طاقت نہیں اس پر کسی دوسرے ہندو نے کچھ بحث کرنا شروع کیا تب وہ لالہ صاحب بات کرتے کرتے گرم ہو کر کہنے لگے کہ ویدوں میں صاف لکھا ہے کہ جیو پر کرتی انادی یعنی روح و مادہ خود بخود قدیم سے چلے آتے ہیں جن کو کسی نے پیدا نہیں کیا یہ بات سنتے ہی اس ۱۷۸ بقيه حاشیه تسلیم کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ ایک بے تعلق شخص جو فرضی طور پر پر میشر کے نام سے موسوم ہے روح کی حقیقت سے کچھ اطلاع رکھتا ہے اور اس کا علم اس کی تہ تک پہنچا ہوا ہے کیونکہ جو شخص کسی چیز کی نسبت پورا پورا علم رکھتا ہے تو البتہ اس کے بنانے پر بھی قادر ہوتا ہے اور اگر قادر نہیں ہوسکتا تو اس کے علم میں ضرور کوئی نہ کوئی نقص ہوتا ہے اور اگر پورا علم نہ ہو تو قطع نظر بنانے سے متشابہ چیزوں میں با ہم امتیاز کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ سو اگر خدائے تعالی خالق الاشیاء نہیں تو اس میں صرف یہی نقص نہیں ہے کہ اس صورت میں وہ ناقص العلم ٹھہرا بلکہ اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ کروڑ ہا روحوں کے امتیاز اور تمیز اور شناخت میں روز بروز دھو کے بھی کھایا کرے اور بسا اوقات زید کی روح کو بکر کی روح سمجھے بیٹھے کیونکہ ادھورے علم کو ایسے دھو کے ضرور لگ جایا کرتے ہیں اور اگر کہو کہ نہیں لگتے تو اس پر کوئی دلیل پیش کرنی چاہیے ۔ منہ