سُرمہ چشم آریہ — Page 228
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۱۶ سرمه چشم آریہ ۱۲۸) آخر تک بجر مخلوق پرستی کے بات نہیں کرتا پنڈت دیا نند نے تاویلات میں بہت کوشش کی مگر کوئی سمج کو سیدھا ظاہر کرنے میں کہاں تک ٹکریں مارے آخر کچھ بھی نہ ہوسکا وید کی تعلیم مخلوق پرستی کے ایک آدھ مقام میں تو نہیں کہ چھپ سکے وہ تو سارا انہی خیالات سے بھرا ہوا ہے۔ تمام دنیا کے پردے میں گھوم آؤ تمام قوموں کو پوچھ کر دیکھ لو کوئی قوم ایسی نہ پاؤ گے کہ جوید کو پڑھے اور اس کو موحدانہ تعلیم سمجھے ہم سچ سچ کہتے ہیں اور زیادہ باتوں میں وقت کھونا نہیں چاہتے کہ جو کچھ قرآن شریف کے دس ورق سے تو حید کے معارف آفتاب عالمتاب کی طرح ظاہر ہوتے ہیں اگر کوئی شخص وید کے ہزار ورق سے بھی نکال کر دکھلاوے تو ہم پھر بھی مان جائیں کہ ہاں وید میں توحید ہے اور جو چاہے حسب استطاعت ہم سے شرط کے طور پر مقرر بھی کرالے ہم قسمیہ بیان کرتے ہیں اور خدائے واحد لاشریک کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم بہر حال ادائے شرط مقررہ پر جس طور سے فیصلہ کرنا چاہیں حاضر ہیں لیکن ناظرین خوب یا درکھیں اور اے آریہ کے نو عمر و نو گرفتارو ! تم بھی یاد رکھو کہ وید میں ہرگز تو حید محض نہیں ہے وہ جابجا مشر کا نہ تعلیم سے مخلوط ہے ضرور مخلوط ہے کوئی اس کو بری نہیں کر سکتا اور زمانہ آتا جاتا ہے کہ اُس کے سارے پر دے کھل جائیں سو تم لوگ اس خدا سے ڈروجس کی عدالت سے کسی ڈھب روپوش نہیں ہو سکتے ۔ آریہ سماج والوں میں نانک صاحب کے چیلے بھی کچھ کچھ داخل ہیں انہیں ہم بطور بقيه حاشیه لئے کوئی اور خالق تب تجویز کیا جائے جب اول کوئی اس کے سر پر دعویدار تھے کہ اس کا میں خالق ہوں اور اُس کو مغلوب اور محکوم کر کے دکھلاوے مگر جب کہ ان تمام باتوں میں سے کوئی بات بھی ثابت نہیں اور من کل الوجوہ خدائے تعالی کامل الذات والصفات اور اپنی ذات میں واحد لاشریک اور در حقیقت سب برتروں سے برتر ہے تو پھر ایسا خیال سراسر دیوانگی اور حماقت ہے ۔ منہ ۔