سُرمہ چشم آریہ — Page 224
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۱۲ سرمه چشم آرید (۱۶۴) کہ بغیر دخل مالک الملک کے تمام روحیں اور ذرہ ذرہ اجسام کا خود بخو دقدیم سے چلا آتا ہے بلکہ وہ تو پورا پورا فیصلہ کر لیں گے یا تو اپنے باپ دادوں کے خیالات کو کسی ٹھکا نہ لگا کر ٹھیک ٹھیک دہر یہ بن جائیں گے اور یا اگر سعادت مند ہوئے تو رب العلمین پر ایمان لائیں گے اور اپنی مخلوقیت کا اقرار کر لیں گے مگر دونوں صورتوں میں وید کے پنجہ سے نکل جائیں گے وہ وقت گزر گئے جب لوگ وید کے کہے کہائے سے چاند سورج کی بقيه حاشیه صفتیں سب صفتوں سے اکمل اور اتم ہیں اور یہ بجائے خود ثابت کیا گیا ہے کہ تمام ایسے وجودوں کے لئے جو محدود اور مقید اور ناقص اور نا تمام ہیں ایک ایسے وجود کی ضرورت ہے جس کو من کل الوجوہ کمال تام ہو اور حدود اور قیود سے پاک اور برتر ہو۔ پس جبکہ اس کو کامل تام اور غیر متناہی اور غیر محدود اور سب برتروں سے برتر مان لیا گیا اور تمام ناقصوں کا مبدء فیوض اس کو ٹھہرایا گیا تو پھر اُس کی نسبت یہ خیال کرنا کہ اس کا بھی کوئی موجد ہونا چاہیے یہ غایت درجہ کی وحشیانہ جہالت اور بُرے طور کی نادانی ہے کیونکہ اگر وہ کسی اور موجد کا محتاج ہے تو پھر وہ اس صورت میں نہ کامل رہ سکتا ہے نہ غیر محدود حالانکہ اس کی خدائی کے لئے یہ شرط ضروری ہے کہ اس کو کمال تام حاصل ہو اور اس کی ذات حدود اور قیود سے منزہ اور پاک ہو غرض اس بات کا قائل ہوکر کہ وہ غیر متناہی اور سب طاقتوں سے بڑھ کر اور کامل تام ہے پھر یہ خیال کرنا کہ با ایں ہمہ اس کو کسی موجد کی بھی ضرورت ہے گویا نقیضین کو جمع کر لینا ہے کیونکہ جب پہلے ہی اس کی ذات پر ایمان لانے کے وقت صحت ایمان اسی بات پر موقوف ہے کہ اس کو اکمل واتم اور بے انتہا اور ہر یک ضعف اور نقصان سے خالی سمجھا جائے تو پھر یہ خیال کہ اس کا کوئی موجد ہونا چاہیے اس صفت ایمان سے بکی انکار اور کنارہ کشی ہے اور نیز یہ