سُرمہ چشم آریہ — Page 223
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۱۱ سرمه چشم آرید دلائل منطقیہ سے بے راہ چل رہے ہیں اور وید کی محبت میں ایسے مست و مدہوش (۱۶۳) ہو گئے کہ خدا داد عقل اور فہم کو یک لخت کھو بیٹھے مگر انہیں یا درکھنا چاہیے کہ اب وید پر چلنے چلانے کا زمانہ نہیں ہے اب ان باتوں پر زور دینے سے کہ ہم قدیم سے خود بخود ہیں ہمارے روحوں اور ہمارے جسمی مادہ کا کوئی رب نہیں جلد تر وید پر وبال آئے گا۔ حال کی ذریت ایسی موٹی عقل کی نہیں کہ ان کو ان تعلیموں پر طفل تسلی دے سکیں بقيه حاشیه بھی عجائب قدرت و حکمت پر مشتمل ہے تو کیا اس کے لئے بھی کسی موجد کی ضرورت ۱۶۳ ہے اس کا جواب یہی ہے کہ ہم ابھی شکل اول کے دونوں مقدمات میں جن سے مخلوقیت روحوں کی ثابت ہوتی ہے موجودات کے لفظ کو اسی لحاظ سے عالم کے لفظ سے مشروط اور مقید کر چکے ہیں یعنی موجودات عالم کا لفظ لکھ کر اس بات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ یہ دلیل فقط موجودات عالم کے متعلق ہے یعنی ان چیزوں کے متعلق ہے جو عالم میں داخل ہیں لیکن خدائے تعالیٰ عالم سے باہر ہے اور خدائے تعالیٰ کی نسبت ایسا خیال کرنا کہ اس کی ذات میں بھی طرح طرح کی طاقتیں اور قو تیں اور عجائب صفتیں پائی جاتی ہیں اس لئے اس کا بھی کوئی موجد چاہیے۔ یہ خیال انہیں لوگوں کے دلوں میں اٹھتا ہے جن کو معرفتِ الہی سے ایک ذرہ بھی حصہ نہیں کیونکہ خدائے تعالی کے وجود کی نسبت یہ تو پہلے ہی سے ماننا پڑتا ہے کہ وہ ایک ایسا وجود ہے کہ جس کی ذات اور ذاتی طاقتیں اور قو تیں اور کامل صفتیں غیر محدود اور غیر متناہی ہیں جو کسی تحدید اور کسی دائرہ عقلی یا قیاسی یا وہمی میں نہیں آسکتیں اور یہ بھی ابتدا ہی سے قبول کیا جاتا ہے کہ اس کا وجو د سب وجودوں پر غالب اور سب وجودوں سے افضل اور سب وجودوں سے اول اور اس کی طاقتیں سب طاقتوں سے بڑھ کر ہیں اور اس کی قوتیں سب قوتوں سے زیادہ تر اور اس کی کامل