سُرمہ چشم آریہ — Page 217
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۰۵ سرمه چشم آریہ کوئی دوسرا بنا سکتا ہے تو کروڑہا اور بے شمار روھیں اور بے شمار جسم کے ٹکڑے کیونکر خود بخود سمجھے (۱۵۷) جائیں آپ سوچ کر دیکھ لیں کہ آپ نے اتنے ورق تو سیاہ کئے مگر ان چیزوں کے خود بخود ہونے پر دلیل کون سی پیش کی اور جب کہ آپ نے کل پر حکمت وجودوں کا جو عالم میں پائے جاتے ہیں خود بخود بغیر ایجاد پر میشر کے ہونا بغیر دلیل کے مان لیا ہے تو پھر یہی فتویٰ تالیف اجسام یعنے جوڑنے جاڑنے پر کیوں نہیں لگایا۔ بے شک واقعی امر تو یہی ہے اور کسی عقل مند کا دل اس بات سے انکار کرنے کی طرف مائل نہیں کہ خدائے تعالیٰ کے کام بے نظیر ہیں مگر آپ لوگ کب انہیں بے نظیر سمجھتے ہیں۔ آپ لوگوں کے وید پر یہ بات سیاہ سے سیاہ دھبہ سے بڑھ کر ہے کہ جو ذات کل فیضوں کا مبدء ہونا چاہیے اس کو ایسا گھٹاتے گھٹا تے نکما کر دیا کہ بس خاک میں ملا دیا۔ سو چواے آریہ صاحبو سوچو! کیا آپ لوگوں میں سے کوئی بھی ایسی روح نہیں کہ جو ذرہ دل کو آلائش تعصب سے پاک کر کےسوچے ۔اس سوال پر غور کرو کہ وہ چیز جسے ربوبیت کہتے ہیں وہ کیا ہے؟ اس بات کو ذرہ دل لگا کر جانچو کہ خدا کس بات کا نام ہے؟ قوم کیا ہے برادری کیا چیز ہے کوئی کسی کا نہیں آؤ خدا سے ڈرو اور ایسی باتیں منہ پر مت لاؤ جن میں اس بے انتہا طاقتوں والے کی توہین ہے کیا تمہیں یہ بات کہتے کچھ بھی شرم نہیں آتی کہ ہماری روحیں بھی بلکہ ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ پر میشر کی طرح خود بخود ہی حق ظاہر ہو گیا اور مخلوق ہونے کی تم پر ڈگری ہو چکی اب خدا کا بندہ ہونے سے مت بھا گو۔ قوله کوئی دہریہ یہ عذر پیش کر سکتا ہے کہ جوڑ نا جاڑ نا پر میشر کی طرف سے نہیں بلکہ اتفاقی طور سے ہو گیا ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ اتفاقی طور پر خود بخود باہم مل جانا پر کرتی کا سبھاؤ نہیں ہے کیونکہ اس میں حرکت کرنے کی طاقت نہیں ۔ رہا جیو یہ اگر اتفاقی طور پر مل سکے تو کہیں اس کا نمونہ ظاہر ہونا واجب ہے اور اگر لوگ موجودہ طریقہ ہی اپنا ثبوت پیش کریں (یعنی یہ کہیں کہ پر میشر کو جوڑتے جاڑتے کس نے دیکھا ہے جو کچھ ہورہا ہے طبعی