سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 216

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۰۴ سرمه چشم آرید (۱۵۶) مرزا صاحب نے ایک دہریہ کی طرف سے پیش کیا تھا ایسی ثابت ہوئیں کہ مرزا صاحب کے جوڑنے جاڑنے سے بالکل عاجز و بے خبر ہیں اور انادی ہونے کی صورت میں خود بخود ان کا جوڑ جاڑ نہیں ہو سکتا سو اس سے کسی تیسرے بڑی شان والے اور جوڑنے والے کی ضرورت ثابت ہوتی ہے۔ وہ وہی ہے جس کو میں سچدانند سروپ اور مرزا صاحب خدائے تعالیٰ کہہ رہے ہیں۔ اقول ۔اے ماسٹر صاحب آپ کی سمجھے اور فہم کی نسبت کیا کہوں اور کیا لکھوں ۔ کچھ ایسے سوئے کہ پھر نہ جاگے تھکے بھی ہم پھر جگا جگا کر ۔ صاحب من میرا سوال تو یہ تھا کہ جس حالت روح اور جسمی مادہ جن کے ذاتی خواص سے فلسفہ میں کتا بیں بھری پڑی ہیں بقول آپ لوگوں کے خود بخود ہیں تو پھر دوسری چیزیں جو اپنی مصنوعیت میں روح اور مادہ کے عجائب اور پر حکمت وجود سے کچھ زیادہ نہیں ہیں کیوں محتاج صانع سمجھی جائیں آپ اس کا جواب دیتے ہیں کہ جوڑ نا جاڑنا بجز پر میشر کے خود بخود نہیں ہو سکتا تو گویا آپ کا یہ مذہب ہوا کہ پیدا ہونا بجز خدا کے خود بخود ہو سکتا ہے مگر جوڑ نا جاڑنا بغیر اس کے ممکن نہیں سواسی مذہب پر میں اعتراض کر رہا ہوں۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا بڑا بھا را کام پیدا کرنا ہے یا جوڑنا۔ ظاہر ہے کہ پیدا کرنا ہی بڑا بھارا کام ہے سو جب آپ لوگوں کی عقل عجیب نے اس بات کو روا رکھ لیا کہ تمام ارواح و مواد معہ جمیع خواص و عجائبات اپنے کے بغیر پیدا کرنے کسی پیدا کنندہ کے خود بخود قدیم سے ہیں تو آپ پر لازم آتا ہے کہ آپ بعض اشیاء کا بعض سے خود بخود جوڑے جانا بھی روا رکھ لیں کیونکہ جوڑ نا جاڑنا اصل ایجاد اشیاء کی نسبت ایک ناکارہ کام ہے سو وہ بوجہ اولیٰ خود بخود ہونا چاہئے ۔ میرا تو یہ مذہب نہیں ہے کہ جوڑے جانایا پیدا ہونا خود بخود ہوسکتا ہے تا مجھے آپ بار بار کہیں کہ کوئی دانہ گندم یا دانتہ باجرہ ہی بنا کر دکھلاؤ میں تو آپ کے ہی مذہب پر رورہا ہوں کہ جس حالت میں ایک دانہ گندم یا ایک دانہ باجرہ نہ خود بخود بن سکتا ہے نہ اس کو