سُرمہ چشم آریہ — Page 215
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۰۳ سرمه چشم آرید عصبہ مجوفہ وغیرہ کی شکل پر متشکل ہو گئے جن کو آریہ لوگ قدیم اور انادی اور پرمیشر کے (۱۵۵) دست قدرت سے بالا تر خیال کرتے ہیں چنانچہ اس بات کو پنڈت دیا نند صاحب بھی اپنے وید بھاش میں مانتے ہیں اور اپنا اعتقاد یہی ظاہر کرتے ہیں کہ نیستی سے ہستی بھی نہیں ہوتی جو ہے وہی ظہور میں آتا ہے اور جو نہیں وہ بھی ظہور میں نہیں آسکتا۔ پس اس جگہ انہوں نے آپ ہی تسلیم کر لیا ہے کہ ترکیب اشیاء یعنے جوڑ نے جاڑنے میں کوئی ایسی نئی بات پیدا نہیں ہوتی جو پہلے نیست محض ہو اور پھر نیستی سے اس کی ہستی ہوگئی ہو بلکہ وہی خواص قدیمہ ظہور میں آتے ہیں کہ جو اول میں سے ہی الگ الگ جزوں میں مخفی طور پر موجود تھے اب جب کہ یہ ثابت ہو گیا کہ ترکیب اشیاء میں انہیں خواص کا ظہور و بروز ہوتا ہے جو پہلے ہی سے الگ الگ ہونے کی حالت میں ان اشیاء میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں تو اس صورت میں ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اگر مثلاً پر میشر نے انسان کے جسم کی آنکھ بنائی اور جو اجزاء کار آمد آنکھ کے الگ الگ موجود تھے انہیں ایک جگہ اکٹھا کر کے کام لیا تو ایسے بنانے میں اس کی کون سی بڑی بھاری خوبی ثابت ہوگئی کیونکہ در اصل سب اجزاء جن سے آنکھ بن سکتی تھی پہلے ہی سے موجود تھے۔ ہاں ظہور اس خاصیت کا اس خاص ترکیب اور وضع پر موقوف تھا سو پر میشر نے اپنی علمی وسعت سے اس خاص وضع و شکل پر اطلاع پا کر اس خاصہ قدیم کو جو بغیر حاجت پر میشر کے پایا جاتا تھا ظاہر کر کے دکھلا دیا پس اگر پر میشر کا اتنا ہی منصب اور اسی قدر اس میں لیاقت ہے کہ وہ خواص اشیاء پر وسیع اطلاع ہونے کی وجہ سے تراکیب مختلفہ میں ان خواص کو ظاہر کرتا رہتا ہے تو اس میں اور دوسرے صناعوں میں کون سا بڑا فرق رہا صرف اتنا ہوا کہ وہ کچھ ہنر میں زیادہ اور دوسرے اس کے چھوٹے بھائی ہوئے۔ قوله ـ رہا مادہ سو وہ چیز ہے جس کو ہندی میں جڑ پدارتھ کہتے ہیں جس میں ارادہ یا طاقت ملنے جلنے کی نہیں غرض دونوں چیزیں ( روح و مادہ) جو دنیا میں موجودہ ہیں جن کو