سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 214

روحانی خزائن جلد ۲ سرمه چشم آرید ۱۵۴ ہندوؤں کے پرمیشر میں ایجادی قدرت نہیں تو اگر اس شہد کی مکھی کی طرح صرف جوڑنا جاڑنا اس کا بے نظیر بھی ہوا تو بھلا یہ کیا کمال ہوا۔ اس جگہ کوئی انجان یہ دھوکا نہ کھائے کہ آریہ سماج والے تو اس بات کو مانتے ہیں کہ گو پر میشر پیدا کرنے پر قادر نہیں لیکن وہ اجسام اور ارواح کے جوڑ نے جاڑنے سے طرح طرح کی مفید چیزیں تو بناتا ہے جیسے اس نے چاند بنایا سورج بنایا زمین کو عمدگی سے بچھایا انسان کو آنکھیں دیں کان دیئے قوت ناطقه شامه بخشی سوکیا ایسے ایسے عجائب کاموں سے اس کی قدرت ثابت نہیں ہوتی اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب کچھ علمی وسعت پر موقوف ہے ایجادی قدرت جو کسی شے اور اس کے خاصہ کو عدم سے پیدا کرنے کو کہتے ہیں وہ اسی قد رفعل سے ہرگز ثابت نہیں ہوسکتی بلکہ وہ تب ہی ثابت ہوتی ہے کہ جب ساتھ اس کے یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ خدائے تعالیٰ صرف اشیاء کا جوڑنے جاڑنے والا نہیں بلکہ وہ ان تمام اشیاء اور ان کے جميع خواص کو پیدا کرنے والا بھی ہے کیونکہ اگر ایسا تسلیم نہ کیا جائے اور خدائے تعالیٰ کا صرف اسی قدر اختیار و اقتدار سمجھا جائے کہ وہ بعض اشیاء کو بعض سے پیوند کر کے ان کے اصلی خواص کو متجلی کر کے دکھا دیتا ہے تو اس سے صرف اس کے معلومات کی فراخی ثابت ہوتی ہے نہ قادریت کا ملہ۔ وجہ یہ کہ جب جمیع اشیاء خود بخود قدیم سے موجود مان لی جائیں تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ان اشیاء کے خواص بھی جو بحالت بساطت مخفی طور پر ان میں پائے جاتے ہیں یا بحالت ترکیب کھلے کھلے طور پر ان سے ظہور میں آتے ہیں وہ بھی سب قدیم ہی ہیں گو ہم ان پر اطلاع پائیں یا نہ پائیں ۔ مثلاً خدائے تعالیٰ نے جو آنکھوں کو نہایت عجیب طور سے بنایا ہے سو اس میں یہ خیال نہیں ہو سکتا کہ آنکھوں کی صرف مجموعی ترکیب کے پیدا ہونے کے بعد خاصہ رؤیت اس میں پیدا ہو گیا ہے بلکہ صحیح فلاسفی اس میں یہ ہے کہ جو کچھ مجموعی ترکیب میں رؤیت پیدا ہونے کا نتیجہ نکلا ہے وہ نتیجہ خفی طور پر ان تمام اجزا میں پایا جاتا تھا۔ جو پیچھے سے رطوبات وطبقات اور