سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 205

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۹۳ سرمه چشم آریہ ایجاد کئے اور بذریعہ رویت تھوڑے ہی دنوں میں اجرام علوی و سفلی کے متعلق وہ صداقتیں (۱۳۵) معلوم کر لیں کہ جو ہندوؤں بیچاروں کو اپنی قیاسی اٹکلوں سے ہزاروں برسوں میں بھی معلوم نہیں ہوئی تھیں اب آپ نے دیکھا کہ رویت میں کیا کیا برکتیں ہیں انہیں برکتوں کی بنیاد ڈالنے کے لئے خدائے تعالیٰ نے رویت کی ترغیب دی ذرہ سوچ کر کے دیکھ لو کہ اگر اہل یورپ بھی رویت کو ہندوؤں کی طرح ایک ناچیز اور بے سود خیال کر کے اور صرف قیاسی حسابوں پر جو کسی اندھیری کوٹھڑی میں بیٹھ کر لکھے گئے مدار رکھتے تو کیونکر یہ تازہ اور جدید معلومات چاند اور سورج اور نئے نئے ستاروں کی نسبت انہیں معلوم ہو جاتے سو مکرر ہم لکھتے ہیں کہ ذرا آنکھ کھول کر دیکھو کہ رؤیت میں کیا کیا برکات ہیں اور انجام کار کیا کیا نیک نتائج اس سے نکلتے ہیں۔ ماسوائے اس کے خود یہ خیال کہ اہل اسلام تحصیل علوم طبعی و ہیئت وغیرہ سے بکلمی بے بہرہ چلے آتے ہیں ایسا متعصبانہ خیال ہے جس سے اگر ماسٹر صاحب ذرا انصاف پر آدیں تو انہیں بہت شرمندہ اور نادم ہو جانا چاہیے ہمیں اس جگہ کچھ ضرورت نہیں کہ بات کو طول دے کر اہل اسلام کے علمی فضائل کا ثبوت دیں بلکہ اس مقام میں ہم صرف ان چند سطروں کا لکھنا مناسب سمجھتے ہیں جواف جون دیون بورٹ صاحب نے اپنی کتاب میں جس کا ترجمہ ہو کر مؤید الاسلام نام رکھا گیا ہے لکھیں ہیں سو وہ یہ ہیں۔ صفحه ۹۲ سے تا صفحه ۹۸ عبارت کتاب جان بورٹ صاحب مشم صاحب کا قول ہے کہ مور خان معتبر کے نزدیک یہ بات قرار پا گئی ہے کہ دسویں صدی میں یوروپ غایت درجہ کی جہالت میں پڑا ہوا تھا اور یہ بات یقینی ہے کہ اس زمانہ میں اہل عرب ( یعنی اہل اسلام نے ) ملک ہسپانیہ اور اٹلی میں بہت سے مدر سے جاری کئے تھے اور ان مدرسوں میں ہزاروں طلباء عیسائی عربی فارسی اور حکمت کی تعلیم پاتے تھے اور پھر ان علوم کو مدارس اسلام سے لاکر عیسائی مدرسوں میں جاری کرتے تھے۔ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ” جان ڈیون پورٹ JOHN DAVENPORT “ہونا چاہیے۔(ناشر)۔ MOSHEIM